1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

جنوبی افریقہ نے ایک روزہ میچوں کی سیریز جیت لی

خلیجی ریاستوں ابو ظہبی اور دبئی میں کھیلی جانے والی پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے فیصلہ کن میچ میں جنوبی افریقہ نے کامیابی حاصل کر کے سیریز اپنے نام کر لی۔

default

جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے کپتان اسمتھ

دبئی میں پانچویں ایک روزہ میچ میں ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے ایک بڑا ٹارگٹ پاکستان کے سامنے رکھا۔ پاکستان کو پچاس اوورز میں 318 رنز بنانے تھے۔ پاکستان کے افتتاحی بلے بازوں نے تیز اور قابل اعتماد شراکت قائم کی۔ تقریباً سات رنز کی اوسط سے بارہ اوورز میں محمد حفیظ اور شاہ زیب حسن نے بیاسی تک اسکور پہنچا دیا۔ شاہ زیب حسن کے آؤٹ ہونے کے بعد اگلی چار وکٹیں جلد گر گئیں اور پاکستانی کرکٹ ٹیم دباؤ کا شکار ہو گئی۔ تجربہ کار بلے بازوں یونس خان اور محمد یوسف ٹیم کے اسکور کو سہارا دینے میں ناکام رہے۔

پانچ وکٹوں کے نقصان کے بعد عمر اکمل، شاہد آفریدی اور عبدالرزاق نے مناسب بیٹنگ سے ٹیم کے اسکور میں اضافے کی کوشش کی۔ عمر اکمل نے ساٹھ، آفریدی نے چوبیس اور رزاق نے انتالیس رنز کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی ساری ٹیم 260 کے سکور پر ڈھیر ہوگئی۔ اس طرح فیصلہ کن میچ میں پاکستانی ٹیم کو57 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جنوبی افریقہ کے مشہور آل راؤنڈر ژاک کالیس نے تیس رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ایک اور باؤلر پیٹرسن نے بھی تین وکٹیں حاصل کیں۔

Südafrika Kricket Hashim Amla

سیریز کے بہترین کھلاڑی: ہاشم املہ

اس سے قبل جنوبی افریقی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلتے ہوئے عمدہ اور تیز سکور سے اپنی جیت کی بنیاد رکھ دی تھی۔ جنوبی افریقہ کے چار کھلاڑیوں نے نصف سینچریاں بنائیں۔ ان میں ہاشم املہ، کالیس، ڈولیئرز اور ڈومنی شامل ہیں۔ کالیس نے تراسی رنز کی انتہائی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ ان کی باؤلنگ میں بھی کارکردگی شاندار تھی۔ اس آل راؤنڈ پرفارمنس پر ان کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ہاشم املہ کو دیا گیا۔ اس سے قبل جنوبی افریقی ٹیم ٹونٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کو بھی جیت لیا تھا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم کے آخری بلے باز تیسرے ایک روزہ میچ میں تین اسکور کے حصول میں پانچ گیندیں ضائع نہ کرتے تو یہ سیریز پاکستان جیت سکتا تھا۔ اسی میچ میں فواد عالم کی طرف سے بہتر کھیل پیش کرتے کرتے بیٹنگ کو ناتجربہ کار بلے بازوں کے حوالے کرنا بھی بعید از عقل قرار دیا گیا ہے۔ اس موقع پر سعید اجمل اور شعیب اختر کی جانب سے قطعاً جارحانہ کھیل نہ پیش کر نا بھی غیر مناسب خیال کیا گیا تھا۔

اب پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔ پہلا ٹیسٹ میچ بارہ نومبر سے دبئی میں کھیلا جائے گا اور دوسرا بیس نومبر کو ابو ظہبی میں شروع ہو گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس