1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی افریقہ میں کوئلے اور سونے کے ہڑتالی کان کنوں کے ساتھ مذاکرات

جنوبی افریقہ کی کوئلے اور سونے کی کانوں میں کام کرنے والے ہڑتالی کان کن آج پیر کو چیمبر آف مائنز سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے تاکہ ہڑتال ختم کرنے کے لیے اپنے مطالبات منوائے جا سکیں۔

default

ہڑتال کے باعث کام رک جانے سے جنوبی افریقہ کی معیشت کو لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ کوئلے کے کان کنوں کی ہڑتال کو ایک ہفتہ ہو چکا ہے جبکہ جمعرات کو سونے کے کان کنوں نے بھی کام چھوڑ دیا، جس کے باعث اینگلو گولڈ اشانتی، گولڈ فیلڈز اور ہارمونی گولڈ نامی کان کن کمپنیوں میں پیداواری عمل متاثر ہوا ہے۔ ہڑتال ایسے وقت ہوئی ہے، جب عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے اور مبصرین کے مطابق ہڑتال سے ان میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

جنوبی افریقہ دنیا میں سونا پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔

کان کنوں کی یونینیں تنخواہوں میں 10 سے 15 فی صد اضافے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جو کہ 5 فی صد افراط زر سے کہیں زیادہ ہے۔ گزشتہ ہفتے پٹرول پمپوں پر ہڑتال کے باعث لوگوں میں افراتفری پھیل گئی تھی تاہم اب وہ ہڑتال ختم ہو چکی ہے۔

Südafrika Parlament wählt neuer Präsident Jacob Zuma

ہڑتال سے برسر اقتدار جماعت افریقن نیشنل کانگرس کو دشوار حالات کا سامنا ہے۔

حکومت کو مشکل صورت حال کا سامنا

ہڑتال سے برسر اقتدار جماعت افریقن نیشنل کانگرس کو دشوار حالات کا سامنا ہے، جو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ سونے کے کان کنوں کے ساتھ مذاکرات کچھ آگے بڑھے ہیں اور آج ان میں مزید پیشرفت کی توقع ہے۔ نیشنل یونین آف مائن ورکرز کے جنرل سیکرٹری فرانز بیلینی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’’انہوں نے مذاکرات کی میز پر کچھ پیشکش کی ہے اور ہم اپنے ساتھیوں کے صلاح مشورے سے اس پر غور کر رہے ہیں اور پیر کو دوبارہ مذاکرات میں حصہ لے کر دیکھیں گے کہ آیا اس پیشکش میں کچھ بہتری کی گنجائش موجود ہے۔‘‘

نیشنل یونین آف مائنز ورکرز کا مطالبہ ہے کہ تنخواہوں میں 14 فی صد اضافہ کیا جائے جبکہ سونے کی کان کن کمپنیوں نے 7 سے 9 فی صد اضافے کی پیشکش کی تھی۔

bergarbeiter in Harmony Gold's Elandsrand Mine, Johannesburg

ہڑتالی کان کن تنخواہوں میں 10 سے 15 فی صد اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مذاکرات کے نئے دور میں کوئلے کے کان کنوں کی ہڑتال بھی ختم کرنے کی پیشکش کی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ہڑتال مزید ایک ہفتہ جاری رہی تو ایشیا اور یورپ کو برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ تشویش کی ایک اور وجہ جنوبی افریقہ کے تقریباﹰ تمام علاقوں کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی اسکوم کو کوئلے کی فراہمی پر بھی ہے کیونکہ وہاں تمام کی تمام بجلی کوئلے سے پیدا ہوتی ہے۔ کوئلے کی متاثرہ کان کن کمپنیوں میں اینگلو تھرمل کول ایس اے، ایگزارو، آپٹیمم کول اور ایکس اسٹریٹا شامل ہیں۔

آج یونینوں اور امپالا پلاٹینم کے درمیان بھی تنخواہوں پر مذاکرات ہوں گے جو دنیا میں اس قیمتی دھات کی دوسری سب سے بڑی کان کن کمپنی ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM