1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی افریقہ میں جوہری اسمگلر گرفتار

جنوبی افریقہ میں پولیس نے تابکاری مادے سیزیم اسمگل کرنے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے ان افراد کو شہر پریٹوریا میں ایک پیٹرول پمپ پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا۔

default

ان افراد کے قبضے سے سیزیم کے نمونے بھی تحویل میں لے لئے ہیں۔ پریٹوریا کی پولیس نے بتایا کہ ان اسمگلروں کی کئی مہینوں سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ تابکاری مادہ سیزیم جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ پولیس نے پیٹرول پمپ کو گھیرے میں لےکر فائرنگ شروع کر دی ، جیسا کہ اکثر فلموں میں ہوتا ہے۔ وہاں موجود تمام افراد زمین پر لیٹ گئے اور اس دوران ایک اسمگلر نے پولیس کے سامنے جا کر گرفتاری پیش کر دی۔ پولیس کے مطابق تابکاری مادے کی وجہ سے یہ ایک انتہائی خطرناک آپریشن تھا۔ اس وجہ سے مہینوں سے خفیہ معلومات جمع کی جا رہی تھیں اور صلاح و مشورے جاری تھے کہ کس طرح سے یہ کارروائی کی جائے۔

فائرنگ کے تبادلے کے بعد بقیہ اسمگلروں کو سیزیم کے نمونے کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ چاروں اسمگلروں کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہی ہے۔

Pripyat Prypyat Pripjat Tschernobyl Ukraine Stadt Atomkraftwerk Evakuierung

چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ

پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ انہوں نے یہ مادہ کہاں سے حاصل کیا۔اس گروہ کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟ اس بارے میں پولیس کچھ بتانے سے قاصر تھی۔

چھاپے کے وقت جوہری اور ماحولیاتی ماہرین کی ٹیم بھی پولیس کے ساتھ تھی۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے تصدیق کی کہ ارد گرد کے ماحول میں کسی قسم کی تابکاری موجود نہیں ہے۔ اسمگلروں نے سیزیم کو انتہائی حفاظت سے رکھا ہوا تھا۔ 24 برس قبل روس میں چرنوبل کے ایک جوہری ری ایکٹر میں ہونے والے حادثے میں بھی سیزیم مادہ خارج ہوا تھا۔ زمبابوے اور نمیبیا میں سیزیم دواؤں میں استعمال اور تحقیقی مقاصد کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم اسے جوہری بم بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پریٹوریا کی پولیس نے بتایا ہے کہ اس تابکاری مادے کو جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے حوالے کر دیا جائے گا۔ 0919 ء کی دہائی میں جنوبی افریقہ کا شمار ایٹمی طاقتوں میں ہوتا تھا۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے،جس نے رضاکارانہ طور پر اپنے جوہری ہتھاروں کو ضائع کیا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گِل

DW.COM