1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی افریقہ: لڑکوں کا جنسی استحصال لڑکیوں سے زیادہ، رپورٹ

جنوبی افریقہ میں ایک قومی ریسرچ میں واضح کیا گیا کہ لڑکوں کے جنسی استحصال کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق تناسب کے لحاظ سے لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات زیادہ ہوئے ہیں۔

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن نے جنوبی افریقہ کی جنسی استحصال سے متعلق پہلی نیشنل ریسرچ کے حوالے سے بتایا ہے کہ لڑکوں کی ایک تہائی تعداد کو جنسی استحصال کا سامنا ہو رہا ہے اور اِس میں اضافے کا امکان ہے۔

نیشنل رپورٹ کے ڈیٹا کے مطابق سینتیس فیصد لڑکوں کو سترہ برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس استحصال میں زور زبردستی کے علاوہ مالی یا تحائف کا لالچ دے کر بھی جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔

اسی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق لڑکوں کی نسبت جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والی لڑکیوں کی تعداد چونتیس فیصد کے قریب بتائی گئی ہے۔ جنسی زیادتی کی وارداتوں میں جسمانی تعلق قائم کرنے کے علاوہ فحش فلمیں دکھانے کے ساتھ ساتھ بدن کے حساس مقامات کو چھونا بھی شامل ہے۔

ریسرچ رپورٹ ایک غیر سرکاری تنظیم یُو بی ایس آپٹیمَس فاؤنڈیشن کی جانب سے مرتب کرنے کے بعد شائع کی گئی ہے۔ تنظیم کے ترجمان ایان ویلے اسکٹ نے اہم نکات کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا کہ بظاہر ٹین ایجر لڑکیاں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں جبکہ اِسی ایج گروپ کے لڑکوں کو غیر جسمانی جنسی زیادتی کا زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے، جس میں انہیں فحش فلمیں دکھانااور بدن کے حساس مقامات کو چھونا شامل ہے۔

Kinder in Sierra Leone

سینتیس فیصد لڑکوں کو سترہ برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو ایان ویلے اسکٹ نے بتایا کہ رپورٹ کے مندرجات سے معلوم ہوا کہ جنوبی افریقی معاشرہ بھی دنیا کے دوسرے معاشروں جیسا ہے اور اس میں ایسے واقعات کا تناسب بھی اتنا ہے، جتنا دوسری معاشروں میں پایا جاتا ہے۔ ترجمان نے واضح طور پر کہا کہ جنوبی افریقی معاشرہ انتہائی پرتشدد رجحان کا حامل نہیں ہے۔

گزشتہ برس جنوبی افریقہ میں سن 2014 کے مقابلے میں زیادہ جنسی زیادتی کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ یہ ساڑھے تین لاکھ سے زائد تھے۔ رپورٹ کے مطابق اکتیس فیصد جنسی زیادتی کے واقعات پولیس کو رپورٹ کیے جاتے ہیں اور ان میں لڑکیاں زیادہ ہیں اور لڑکوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ریسرچر کے مطابق لڑکے امکاناً ایسے واقعات کو بیان کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اِسی غیر سرکاری تنظیم نے ایسی ہی ریسرچ سوئٹزرلینڈ میں بھی مکمل کر رکھی ہے اور اُس رپورٹ کے مطابق ایسی زیادتیوں کا تناسب جنوبی افریقہ سے اِس یورپی ملک میں زائد پایا گیا ہے۔

یُو بی ایس اپٹیمَس فاؤنڈیشن کی ریسرچ میں کیپ ٹاؤن یونیورسٹی اور اِسی شہر کے جسٹس اینڈ انسدادِ جرائم کے مرکز کے ریسرچر شریک تھے۔ رپورٹ کے مطابق جن والدین کو اپنے بچوں کی نقل و حرکت کی پوری آگہی ہوتی ہے، اُن کو جنسی استحصال کا کم سامنا کرنا پڑتا ہے۔