1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنوبی افریقہ، بچی کو اغوا کرنے والی خاتون انیس سال بعد گرفتار

جنوبی افریقہ کی ایک عدالت نے انیس برس قبل ایک میٹرنٹی ہوم سے نومولود بچی کو اغوا کرنے کے جرم میں ایک خاتون کو دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

Südafrika Prozess nach Baby Entführung Eltern

زیفینی کی حقیقی ماں کو جب عدالتی فیصلے کا علم ہؤا تو وہ خوشی سے رو پڑی

کیپ ٹاؤن میں عدالتی ذرائع کے مطابق پہلے یہ سزا چودہ سال مقرر کی گئی تھی تاہم بعد میں چار سال کم کرتے ہوئے اب دس برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالتی ذرائع یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ سزا کے چار سال کیوں کم کیے گئے۔ استغاثة نے اس اکیاون سالہ خاتون کے لیے پندرہ سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس خاتون نے سن انیس سو ستانوے میں کیپ ٹاؤن کے ایک میٹرنٹی ہوم میں ایک بچی کو اس کی سوتی ہوئی ماں کے سرہانے سے اغوا کر لیا تھا۔ ملزمہ کے شوہر نے بھی اس بات پر یقین کر لیا کہ وہ اس کی حقیقی بیٹی ہے اور یہ بچی کیپ ٹاؤن میں ان کے گھر پروان چڑھتی رہی۔

جنوبی افریقہ میں یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا، جب گزشتہ برس ایک اسکول کے طلبہ نے ایک طالبہ اور اسکول میں داخل ہونے والی ایک لڑکی کی ایک جیسی شکل کو ایک دوسرے کی بہنیں کہہ کر پکارنا شروع کر دیا تھا۔ یہ بات رفتہ رفتہ اس طالبہ کے والدین تک پہنچی، جن کی نومولود بیٹی 18 برس قبل ایک ہسپتال سے چرا لی گئی تھی۔

ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹس سے پتہ چلا کہ دونوں لڑکیاں حقیقی بہنیں ہیں اور اس طرح بچپن میں ہوئے اس اغواء کا راز فاش ہو گیا۔ تاہم ملزمہ نے اس بچی کے اغواء سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچی کو ایک ریلوے سٹیشن پر اس کے حوالے کیا گیا تھا۔ اس خاتون کے بیان کے مطابق ایسا اس دائی نے کیا تھا جو اولاد کے لیے اس کا علاج کرتی رہی تھی۔ زیفینی کی شناخت کا پتہ چلنے کے بعد اسے سماجی کارکنوں کی زیر نگرانی رکھا گیا تھا۔ خبروں کے مطابق زیفینی نے اپنے حقیقی والدین کے بجائے اسی والد کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے جس نے اسے پالا تھا۔

DW.COM