1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جنسی غلامی‘ کا تنازعہ، چین اور جنوبی کوریا مذاکرات پر تیار

جنوبی کوریا اور جاپان جنسی غلامی سے متعلق عشروں پرانے تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی افواج کوریائی خواتین سے زبردستی جسم فروشی کرواتی رہی تھی۔

جنوبی کوریا اور جاپان کے رہنماؤں نے آج ایک ملاقات کے دوران ’تاریخی تنازعے‘ کے حل کے لیے مذاکرات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ جنوبی کوریا کی خاتون صدر پارک گُن ہَے اور جاپانی وزیر اعظم شینزو ایبے کا کہنا تھا کہ ’کمفرٹ ویمن‘ کے عشروں پرانے حساس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ یہ ان رہنماؤں کے مابین اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی۔

دوسری عالمی جنگ کے دور میں ٹوکیو کے زیر قبضہ ملکوں میں جاپانی فوجیوں کی طرف سے مقامی عورتوں کو جنسی غلام بنائے جانے کے واقعات مشرقی ایشیا کی تاریخ میں بہت نازک معاملہ سمجھے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی لیڈر جاپان سے متعدد مرتبہ یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ اسے جنوبی کوریا کے ساتھ جنسی غلامی کے معاملے پر ’’مصالحت کی کوشش میں آگے بڑھنا چاہیے‘‘۔ جاپان میں دوسری عالمی جنگ کے دوران جنسی طور پر غلام بنائی جانے والی خواتین کو ’کمفرٹ ویمن‘ یا ’تسکین فراہم کرنے والی خواتین‘ کا نام دیا جاتا تھا۔

سرکاری ریکارڈز کے برعکس اہم تاریخ دانوں کے مطابق ایسی خواتین کی تعداد دو لاکھ تک تھی جنہیں فوجی قحبہ خانوں میں جاپانی فوجیوں کو جنسی تسکین فراہم کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق کوریا سے تھا تاہم ان میں چین، انڈونیشیا، فلپائن اور تائیوان سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شامل تھیں۔

جاپان اور جنوبی کوریا کے مابین ہونے والے اس معاہدے کو مسئلے کے حل کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے لیکن کسی بڑی پیش رفت کی توقع کم ہی ہے۔ جنوبی کوریا کی خاتون صدر کا اس موقع پر زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’ماضی کے زخموں کو مندمل‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب جاپانی وزیراعظم کی طرف سے ایسا کوئی بھی وعدہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی اشارہ دیا گیا ہے کہ ان کا ملک اس سلسلے میں ’نئی معافی‘ مانگے گا۔ اس معاملے میں جاپان کو موقف یہ ہے کہ ’’کمفرٹ ویمن‘ کا مسئلہ 1965ء کے معاہدے کے تحت حل ہو چکا ہے۔ ’نارملائزیشن معاہدے‘ کے تحت جاپان نے اپنی اس سابقہ کالونی کو آٹھ سو ملین ڈالر کا قرض فراہم کیا تھا۔

عمومی اتفاق رائے یہی ہے کہ ان خواتین سے ان کی مرضی کے بغیر یہ کام لیا گیا اور جاپانی فوج اور جنگ کے زمانے کی جاپانی حکومت اس جنسی غلامی میں کسی نہ کسی طرح ملوث تھیں۔ تاہم دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ عام جسم فروش خواتین تھیں جنہوں نے مالی فائدے کے لیے یہ کام اپنی مرضی سے انجام دیا تھا۔