1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنسی غلامی سے رہائی پانے والی بیس خواتین سے پوپ کی ملاقات

پوپ فرانسس نے روم میں ان بیس خواتین سے ان کے محفوظ گھر میں ملاقات کی، جنہیں جنسی غلامی سے رہا کرایا گیا تھا۔ مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کو انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے مجرموں نے جنسی غلامی پر مجبور کیا تھا۔

اطالوی دارالحکومت سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس انسانوں کی اسمگلنگ کو کئی بار انسانیت کے خلاف جرم قرار دے چکے ہیں۔ پوپ فرانسس نے روم میں ’محفوظ گھر‘ قرار دی جانے والی ایک رہائش گاہ پر ان بیس خواتین سے جمعہ بارہ اگست کو اچانک ایک ملاقات کی، جنہیں جنسی غلاموں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور جنہیں ایک کلیسائی امدادی تنظیم کی وجہ سے رہائی ملی تھی۔

ویٹیکن نے اپنے ایک بیان میں یہ تو نہیں بتایا کہ ان خواتین کا روم میں ’محفوظ گھر‘ کہاں ہے تاہم یہ ضرور کہا گیا کہ ان خواتین کا تعلق رومانیہ، البانیہ، نائیجیریا، تیونس، یوکرائن اور اٹلی جیسے یورپی اور افریقی ملکوں سے ہے۔

ویٹیکن کے ایک اہلکار کے مطابق اس ملاقات میں پاپائے روم نے ان خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اب جب وہ اپنی نئی زندگی شروع کر چکی ہیں، انہیں ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مضبوط رہنا ہو گا۔

روئٹرز کے مطابق ان خواتین کی جنسی غلامی سے رہائی ایک ایسی کیتھولک تنظیم کی وجہ سے ممکن ہو سکی تھی، جو ’جبری جسم فروشی اور جنسی غلامی‘ سے بچائی گئی خواتین کے تحفط کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ تنظیم ’تئیسویں پوپ جان کی کمیونٹی‘ کہلاتی ہے۔

اس برادری کی ابتدا ایک اطالوی پادری نے کی تھی، جو مجبوراﹰ جسم فروشی کرنے والی خواتین کو ان سے یہ کام کروانے والے مجرموں کے چنگل سے بچاتے تھے اور اس تحریک کا مقصد انسانوں کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ کے لیے آواز بلند کرنا تھا۔

Italien Pabst Franziskus Besuch bei früheren Prostituierten

پوپ کی ان بیس خواتین سے ملاقات کے موقع پر لی جانے والی دو تصاویر

پوپ فرانسس کلیسائے روم کے سربراہ بننے کے بعد سے انسانوں کی اسمگلنگ اور جنسی غلامی سمیت جدید دور میں غلامی کی تمام صورتوں کے خلاف متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں کی میزبانی کر چکے ہیں۔ پوپ فرانسس کے مطابق انسانوں کی اسمگلنگ اور تجارت نہ صرف انسانیت کے خلاف جرم ہے بلکہ یہ ہر اس معاشرے میں ایک رستا ہوا زخم بھی ہے، جہاں اس جرم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔

پوپ نے جنسی غلامی سے رہائی پانے والی جن بیس خواتین سے ملاقات کی، وہ ایسی عورتیں تھیں، جنہیں انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے جرائم پیشہ گروہ مختلف افریقی اور یورپی ملکوں سے ملازمتوں کے وعدے کے ساتھ اٹلی لائے تھے اور جن سے اٹلی پہنچنے پر جبراﹰ جسم فروشی کرائی جانے لگی تھی۔

DW.COM