1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنسی زیادتی کے شکار طالب علم، جرمن چرچ ازالے کے لیے تیار

جرمنی میں کیتھولک کلیساء نے جنسی یا جسمانی تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے اپنے ایسے طالب علموں کو ازالہ ادا کرنے کے لیے ایک فنڈ بنانے کی تجویز پیش کی ہے، جن کی شکایات اتنی زیادہ پرانی ہیں کہ وہ عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے۔

default

جرمن کیتھولک کلیساء کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انفرادی طور پر ’سنگین کیسز‘ کو دیکھتے ہوئے ازالے کی رقم زیادہ کر دی جائے گی، تاہم اس بارے میں ابھی تک کوئی رہنما اصول مرتب نہیں کیے گئے ہیں کہ ازالہ ادا کیے جانے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

بدھ کے دن یہ اعلان اس وقت سامنے آیا، جب حکومت کی طرف سے ترتیب دیے گئے ایک خصوصی پینل نے کلیسائی رہنماؤں کے ساتھ ایک ملاقات کی۔ اس ملاقات میں حکومتی اور نجی سطح پر کام کرنے والے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسائی اداروں میں زیادتی کا شکار بننے والوں کو ہرجانہ ادا کرنے کے معاملے پر گفتگو کی گئی۔

BdT Deutschland Katholikentag in Osnabrück Kerze

جرمن کلیسائی ادارے پانچ لاکھ یورو کا ایک خصوصی فنڈ قائم کریں گے

جرمن چرچ نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پانچ لاکھ یورو کا ایک خصوصی فنڈ قائم کریں گے۔ یورپ کے دیگر ممالک کی طرح امریکہ میں بھی بالخصوص کیتھولک کلیسائی اداروں میں جنسی زیادتی کے اسکینڈلز منظر عام پر آنے کے بعد ان اداروں کی ساکھ بری طرح خراب ہوئی ہے۔

اس سے قبل 2007ء میں لاس اینجلس کے ایک آرچ ڈائسس نے اپنے راہبوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والے قریب پانچ سو افراد کو 660 ملین ڈالر بطور ازالہ ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اپنی نوعیت کا یہ سب سے بڑا ہرجانہ قرار دیا جاتا ہے۔

جرمنی میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے جرمن کلیساء کی طرف سے اس نئے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب امید نظر آ رہی ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ رونما نہیں ہوں گے۔

کلیسائی اداروں میں جسنی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کئی سرکردہ کارکنان نے گزشتہ برس دسمبر میں جرمن حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر امیر ترین ممالک کی طرح جرمنی میں واقع کلیسائی ادارے ماضی میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے گئے افراد کو ازالہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM