1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنسی زیادتی کے بعد قید کی سزا،افغان خاتون کے لیے معافی کا اعلان

افغانستان میں ایک ایسی خاتون کے لیے معافی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ جسے اس کے اپنے ہی خاندان کے ایک فرد کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ خاتون کو بعدازاں غیر قانونی جنسی تعلقات کے شبے میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

default

افغان خواتین

کابل سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس اکیس سالہ خاتون کا نام گل ناز ہے۔ اسے پہلے یہ پیش کش بھی کی گئی تھی کہ اگر وہ اپنے اس رشتے دار سے شادی کر لے جس نے اس پر جنسی حملہ کیا تھا تو اسے جیل سے رہا کیا جا سکتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق گل ناز نے بالاخر اس شرط کو مان لیا۔ گل ناز کے وکیل کی مطابق اس افغان خاتون کے لیے اب معافی کا جو اعلان کیا گیا ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر نہیں ہے کہ آیا یہ خاتون وعدے کے مطابق اپنے اس رشتے دار سے شادی کرتی ہے کہ نہیں۔ گل ناز کی وکیل کمبرلی موٹلی نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ خاتون اس شخص سے شادی کرے گی یا نہیں ۔ گل ناز کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا افغان شہری گل ناز کی ایک کزن کا شوہر ہےجو اس وقت اس جنسی زیادتی کے جرم میں سات سال قید کی سزا کا ٹ رہا ہے۔

Frauen in Afghanistan Islam Burka NO Flash

اس طرح معاف کیا جانا قدامت پسند رجحان کے ملک افغانستان میں بہت کم نظر آتا ہے

گل ناز کے لیے معافی کا اعلان صدر حامد کر زئی کے دفتر کی طرف سے ایک بیان میں کیا گیا۔ ایسے الزامات کے تحت زیر حراست افراد کا اس طرح معاف کیا جانا قدامت پسند رجحان کے ملک افغانستان میں بہت کم نظر آتا ہے۔

افغانستان میں گل ناز کی ذات سے متعلق اس مقدمے کو بین الاقوامی سطح پر بہت شہرت حاصل ہو چکی ہے۔گل ناز نے اس موضوع پر بنائی جانے والی ایک دستاویزی فلم میں بھی اپنا کردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم یورپی یونین کے کہنے پر یونین ہی کی مہیا کردہ رقوم سے تیار کی گئی تھی لیکن بعد میں یونین نے یہ فلم ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Afghanistan Loya Jirga Präsident Hamid Karsai in Kabul

گل ناز کے لیے معافی کا اعلان صدر حامد کر زئی کے دفتر کی طرف سے ایک بیان میں کیا گیا

یورپی یونین کی ایک خاتون ترجمان نے گل ناز کی رہائی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم گل ناز کے بارے میں یونین کی طرف سے تیار کردہ دستاویزی فلم کو ریلیز کرنے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ گل ناز کو پیش آنے والے حالات کی انسانی حقوق کی بہت سے تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔

گل ناز کی وکیل کمبرلی موٹلی نے کہا ہے کہ وہ یہ پتہ چلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اگر گل ناز پر جنسی حملہ کرنے والا اس کا رشتے دار اس خاتون کے ساتھ شادی پر تیار ہو جائے تو کیا اسے بھی جیل سے رہا کر دیا جائے گا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: عابد حسین

DW.COM