1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنسی زیادتی کی شکار بچیوں کی شادی، متنازعہ قانون سازی واپس

ترکی نے اس مجوزہ بل کو واپس لے لیا ہے، جس کے تحت ناقدین کے مطابق جنسی زیادتی کی شکار بچیوں کی شادی کو قانونی تحفظ فراہم ہو جائے گا۔ ترک وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس مسودہٴ قانون کو بحث کے لیے فی الحال پیش نہیں کیا جائے گا۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے اس متنازعہ قانون سازی کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ سردست اِس بِل کو واپس لے لیا گیا ہے اور پارلیمانی ایوان میں بحث کے لیے نہیں پیش کیا جائے گا۔ اس قانون سازی پر بن علی یلدرام کی حکومت کو تقریباً ہر طبقے کی جانب سے شدید عوامی تنقید کا سامنا تھا۔

ترک وزیراعظم کے مطابق اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا عمل روک دینے کے بعد اِسے اُس کمیشن کو مزید غوروخوص کے لیے واپس بھیج دیا جائے گا، جس نے اِس کو مرتب کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں کے سرگرم کارکنوں کا خیال ہے کہ اس بل کی منظوری سے جیلوں میں سزائے قید بُھگتنے والے جنسی زیادتی کے مجرم رہا ہو جائیں گے کیونکہ بل کی منظوری کے ایسے مجرم کو جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی سے شادی کرنا پڑتی۔

یلدرم کے مطابق اس قانون سازی کے مسودے پر حکومتی کمیشن مزید توجہ مرکوز کرے گا اور اُن تمام عوامی خدشات اور آراء کی روشنی میں اِس کا جائزہ لے کر ترمیم و اضافہ کر سکتا ہے، جو حالیہ ایام میں اِس مسودہٴ قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل سامنے آئے ہیں۔

Türkei Istanbul Hochzeit Sümeyye Erdogan (picture-alliance/dpa/Turkish President Press Office)

ترک صدر کی بیٹی سومیہ ایردوآن بھی اِس بل کی مخالفت میں پیش پیش تھیں

اس بل کے ناقدین میں ترک حکومت کی حامی غیرسرکاری تنظیم ’خواتین اور جمہوریت‘ (KADEM) بھی پیش پیش تھی۔ اس تنظیم کی نائب سربراہ صدر رجب طیب ایردوآن کی چھوٹی بیٹی سومیہ ایردوآن بائراختر ہیں۔ اس تنظیم نے بھی گزشتہ جمعہ کو مجوزہ قانون سازی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قانون سازی اُس زیادتی کو قانونی چھتری فراہم کرے گی، جو کسی نوعمر لڑکی کے ساتھ رُونما ہو چکی ہو گی۔

بل کی مخالفت میں مرکزی اپوزیشن جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی بھی پیش پیش تھی۔ باِس مسودہ ء قانون  کی واپسی کو ایک طرح سے اپوزیشن پارٹی کی کامیابی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ قانون کو  منگل، تیئیس نومبر کو پارلیمان میں بحث اور ووٹنگ کے لیے پیش کیا جانا تھا۔ اس بات کا امکان بھی تھا کہ  ابتدائی بحث کے بعد حکمران سیاسی جماعت اِسے منظور کر لیتی۔