1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنسی زیادتی کا مقدمہ، گرمیت رام رحیم سنگھ مجرم ہیں، عدالت

بھارتی ریاست ہریانہ میں ڈیرہ سچا سودا کے مذہبی پیشوا گرمیت رام رحیم سنگھ کو جنسی زیادتی کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ پنچکولہ کی مرکزی تفتیشی عدالت کے جج اس مقدمے میں حتمی سزا کا اعلان پیر28 اگست کو کریں گے۔

Indien Panchkula Guru Prozess (picture-alliance/AP Photo/T. Topgyal)

ڈاکٹر گرمیت رام رحیم سنگھ جی انسان اپنے عقیدت مندوں کے ہمراہ

   

 شمالی بھارت کے علاقے پنچکولہ کی ایک عدالت نے سکھ مذہب کے ایک فرقے سے تعلق رکھنے والےمشہور مذہبی پیشوا ڈاکٹر گرمیت رام رحیم سنگھ جی انسان کو جنسی زیادتی  کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے اعلان سے قبل ہی سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامت کر دیے گئے ہیں۔

بھارت: سیکولر ریاست میں مذہبی تفرقے کا سیاسی استعمال

ویانا کے گوردوارے میں فائرنگ، ایک سنت ہلاک

ویانا کی چنگاری بھارت پہنچ گئی

 مقامی انتظامیہ نے کئی علاقوں میں حفاظتی طور پر کرفیو بھی نافذ کر دیا ہے۔ چنڈی گڑھ اور ملحقہ علاقوں میں پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے  پندرہ ہزار کے قریب اہلکار تعینات ہیں۔ ریاست ہریانہ کے شہر  پنچکولا اور اس کے نواحی علاقوں کو خاردار باڑ لگا کر سیل کر دیا ہے ۔ اس علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند اپنے گورو کے حق میں سڑکوں پر ڑیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

Indien Panchkula Guru Prozess (picture-alliance/AP Photo/A. Qadri)

پنچکولا میں سخت حفاظتی انتظامات کے لیے بھاری پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے

نیوز ایجنسی روائٹر کے مطابق پچاس سالہ باریش مذہبی پیشوا یا سنت گرمیت رام رحیم سنگھ  خود کو ہندو مذہب کے طاقتور دیوتا وشنو کا اوتار کہتے ہیں ۔ ان پر الزام ہے کے انہوں نے سن 2002 میں اپنے ڈیرے پر دو خاتون پیروکاروں سے جنسی زیادتی کی تھی۔ گرمیت رام رحیم سنگھ اس  الزام  کو ماننے سے  انکار کرتے ہیں ۔ اس مذہبی گورو پر جنسی  زیادتی کے مقدمے کے علاوہ یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے 400 مرد پیروکاروں کو اپنا عضو کاٹ دینے کی ترغیب دی تھی۔ اس مناسبت سے بھی تفتیشی عمل جاری ہے۔

نیوز ایجنسی  اے پی سے بات کرتے ہوئے ایک بیس سالہ خاتون عقیدت مند نشو رانی نے بتایا کے وہ اپنے خاندان کے بیس افراد کے ساتھ پنچکولا  میں اپنے گورو کی حمایت میں پہنچی ہے اور اُن کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ رانی نے مزید بتایا کے عام  لوگ گرو جی کے آستانے کے باہر اپنی لڑکیوں کو عقیدت کے اظہار میں رکھ کر چلے جاتے ہیں اور ان بچیوں کی وہ اپنی بیٹیوں کی طرح پرورش کرتے ہیں۔ نشو رانی نے مزید کہا کہ بچیوں کی پرورش کرنے والا  یہ گھناونا کام کیسے کر سکتا ہے۔

Indien Panchkula Guru Prozess (picture-alliance/AP Photo/A. Qadri)

اپنے گورو کی حمایت میں ڈیرے ڈالے ہوئے لوگوں کا ایک اجتماع

بھارت میں  ڈیرہ سچا سودا جیسے مذ ہبی فرقوں کو عوام کی کافی اکثریت حاصل ہے۔ گرمیت رام  دعوٰی کرتے ہیں کے  پچاس ملین افرد اس فرقے میں شامل ہیں۔ اور اس فرقے کے ماننے والوں کے مطابق اُن کے گورو نے سبزی خوری کے فروغ اور منشیات کی لت کے خلاف انتہائی دلیرانہ اقدامات کیے ہیں۔

کچھ سال قبل ڈیراسچا سودا فرقے اور سکھ مذہب کے درمیان مسلح تنازعہ بھی ہو چکا ہے اور اس کی وجہ خود کو ’وشنو کا اوتار‘ کہلانے والے سنت گرمیت رام رحیم سنگھ کا وہ ایک اشتہار بنا تھا ، جس میں وہ سکھوں کے دسویں گورو گوبند سنگھ، کے انداز اپنائے ہوئے تھے۔

DW.COM