1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

جنسی  زیادتی کا شکار خواتین کے نام  ہمدردی بھرے خط

ریگینہ خاتون کو جب معلوم ہوا کہ ایک ہزار میل دور کپڑے کی صنعت کے ایک کارخانے میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے تو اس نے خطوط کے ذریعے  ان خواتین کی ہمت بڑھانے  کا فیصلہ کیا۔

ریگینہ کا تعلق بھارت کے شہر کلکتہ سے ہے۔ ماضی میں یہ جسم فروشی کا کاروبار کرنے والوں کا شکار رہ چکی ہے۔ اب گزشتہ چھ ماہ سے یہ اور  اِس کی وہ خواتین ساتھی جو ماضی میں جبری طور پر جسم فروشی کرنے پر مجبور تھیں ایسی خواتین کو خط لکھتی ہیں جو اسی نوعیت کے  مظالم اور تشدد برداشت کر رہی ہیں۔

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ تامل ناڈو میں  دھاگا  بنانے کی ایک فیکٹری میں چھ خواتین نے کام پر  کارخانے کے انچارج  اور دیگر مردوں کی جانب سے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت  ریاستی انتظامیہ سے کی تھی۔ اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد ریگینہ خاتون  نے ان خواتین سے رابطہ کرنا ضروری سمجھا۔

خاتون اور مغربی بنگال کی 12 دیگر خواتین نے تامل ناڈو فیکٹری کی متاثرہ خواتین کو خط میں لکھا کہ وہ ان کی تکلیف اور مشکل کو سمجھتی ہیں اور ان کی بہادری  پر انہیں مبارک باد پیش کرتی  ہیں کیوں کہ انہوں نے ملازمت ہاتھ سے جانے کے خطرے کے باوجود  خود پر ہونے والی زیادتی کے خلاف  آواز اٹھائی ہے۔  ٹیکسٹائل مِل  میں کام کرنی والی خواتین نے شکایت کی تھی  کہ مرد اُن کی مرضی کے بغیر انہیں چھوتے ہیں اور  بات نہ ماننے پر  ان کی تنخواہ میں سے پیسے کاٹے جاتے ہیں۔

Bangladesh Zwangsprostitution (Getty Images/AFP/Munir uz ZAMAN)

ماہرین نفسیات کی رائے میں متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردری انہیں ماضی اور حال کی مشکل صورتحال سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے

اس خط میں لکھا ہے ،  ’’یہ بیان کرنا بہت  مشکل ہے کہ ہمیں کیسا محسوس ہوا جب ہمیں کارخانے کے سپروائزر  اور دیگر مردوں کے آپ کے ساتھ نا زیبا  رویے کے بارے میں معلوم ہوا۔‘‘

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں 18 ملین افراد غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

خاتون صرف 13 برس کی تھی جب اسے جسم فروشی کے ایک اڈے میں فروخت کر دیا گیا تھا۔ اس نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا،’’ میں اس کرب اور تکلیف سے گزر چکی ہوں جس سے تامل ناڈو کی یہ خواتین گزر رہی ہیں، میں انہیں بتانا چاہتی ہوں کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔‘‘

Bangladesh Protest von Sexarbeiterinnen in Dhaka (picture-alliance/ZUMAPRESS/M. Asad)

بھارت میں 18 ملین افراد غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں

ریگینہ خاتون نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا، ''میں چار سال  قید میں رہی، مجھ  پر تشدد کیا گیا ، گالیاں دی گئیں  اور مجھے ریپ بھی کیا گیا جب تک میں آزاد نہیں ہو گئی۔ لیکن اس فیکٹری میں یہ خواتین پھنسی ہوئی ہیں اور ان کے ساتھ مسلسل زیادتی کی جا رہی ہے۔‘‘

ماہرین نفسیات کی رائے میں متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردری انہیں ماضی اور حال کی مشکل صورتحال سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہر نفسیات اوما چٹرجی کہتی ہیں،’’ یہ خطوط  ان خواتین کو یہ احساس دلانے میں مدد گار ثابت ہوں گے کہ وہ تنہا نہیں ہیں اور انہیں انصاف حاصل کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا حوصلہ  دیں گے۔‘‘

DW.COM