1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنسی زیادتی کا جھوٹا الزام ، خاتون ماڈل پر بھاری جرمانہ عائد

جرمنی کی ایک عدالت نے ایک اہم مقدمے میں جنسی زیادتی کا جھوٹا الزام لگانے پر ایک ماڈل گرل کو بیس ہزار یورو کا جرمانہ کیا ہے۔ اِس خاتون نے جرمن ٹی وی کے ماڈلز کے انتخاب کے ایک پروگرام میں بطور امید وار حصہ لیا تھا۔

Deutschland Gina-Lisa Lohfink verlässt Amtsgericht Tiergarten in Berlin

خاتون ماڈل نے جرمن ٹی وی کے ماڈلز کے انتخاب کے ایک پروگرام میں بطور امید وار حصہ لیا تھا

برلن کی ایک جرمن عدالت میں سن 2012 میں ہونے والے مبینہ ریپ کے واقعے کی سماعت کی گئی۔ اِس مقدمے میں ماڈل گرل گینا لیزا لوہفنک کے الزامات کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ اِس خاتون نے جرمن ٹی وی کے ماڈلز کے انتخاب کے ایک پروگرام میں بطور امید وار حصہ لیا تھا۔ اُس کے مطابق ماڈل کے انتخاب کے اِس پروگرام کے دوران دو مردوں نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں ماڈل گرل گینا لیزا کو ’نہیں نہیں ‘ کہتے سنا جا سکتا ہے۔

ابتدائی عدالت نے دونوں مردوں کو ویڈیو کی شہادت پر سزا سنائی لیکن انہیں ریپ کے مقدمے سے بری کر دیا تھا۔ اسی عدالت نے لوہفنک کو بھی جھوٹے الزامات عائد کرنے پر چوبیس ہزار یورو جرمانے کی سزا سنائی ہے لیکن لوہفنک نے جرمانے کی رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی پر جرمن قانون کے تحت مقدمے کا از سر نو جائزہ لیا گیا۔

Deutschland Gina-Lisa Lohfink verlässt Amtsgericht Tiergarten in Berlin

عدالت کے مطابق لوہفنک نے جان بوجھ کر جھوٹے بیان دیے

جرمن دارالحکومت کی عدالت نے آج سوموار کے روز کہا ہے کہ لوہفنک نے جان بوجھ کر جھوٹے بیانات دیے اور یہ کہ جنسی تعلق فریقین کی رضامندی سے قائم کیا گیا تھا اور لوہفنک کا مقصد اسے فلمانا تھا۔ لوہفنک جو اس مقدمے کے حوالے سے جرمن میڈیا کو کئی انٹرویوز دے چکی ہیں۔ اُن کا موقف ہے کہ امکاناً اسے نشہ دے کر جنسی زیادتی کا ارتکاب کیا گیا تھا۔ اِس تناظر میں عدالت کی طرف سے مقرر ایک ماہر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ انہیں لوہفنک کو نشہ دیے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

یہ امر اہم ہے کہ جرمن قانون میں حال ہی ترمیم کی گئی ہے اور ریپ کا مقدمہ درج کرانے والے کا ایک ’نہیں‘ بھی کافی ہے۔ اس ترمیم سے قبل جنسی زیادتی کے شکار ہونے والے کو جسمانی مزاحمت ثابت کرنا ہوتی تھی۔

DW.COM