1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنسی زیادتی: سعودی سفارتکار کے بعد اب سعودی شہزادے پر الزام

پہلے بھارت میں ایک سعودی سفارت کار کو جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا اور اب اسی طرح کے الزامات امریکا میں ایک سعودی شہزادے کو درپیش ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ لاس اینجلس میں پیش آیا۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز نے لاس اینجلس پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی شہزادے مجید عبدالعزیز السعود نے اپنی ایک ملازمہ کو’ اورل سیکس‘ یعنی زبان اور ہونٹوں کے ساتھ جنسی عمل پر مجبور کیا۔ پولیس نے بتایا کہ اٹھائیس سالہ سعودی شہزادے کو بدھ کے روز گرفتار کیا گیا تھا لیکن اگلے ہی روز اسے بھاری زرِ ضمانت کے بدلے رہا کر دیا گیا۔ جیل ریکارڈز کے مطابق اس سلسلے میں تین لاکھ امریکی ڈالر ضمانت کے طور پر جمع کرائے گئے ہیں۔

Neu Delhi Protest Indien Vergewaltigung Botschaft Saudi Arabien AIDWA

ابھی قریب دو ہفتے قبل ہی بھارت میں متعینہ ایک سعودی سفارت کار پر بھی اپنی دو نیپالی ملازماؤں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جس کے بعد ریاض حکومت نے انہیں واپس بلا لیا

لاس اینجلس پولیس نے مزید بتایا کہ شہزادے کو سفارتی استثناء حاصل نہیں ہے۔ مزید یہ کہ پولیس ایک پڑوسی کی شکایت پر بیورلی ہلز میں واقع اس کے گھر میں داخل ہوئی۔ لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق پڑوسی نے پولیس کو بتایا کہ خون میں لت پت ایک خاتون مدد کے لیے پکار رہی ہے اور اس گھر سے باہر نکلنے کی کوششوں میں ہے۔ بیورلی ہلز کے اس گھر کی قیمت 37 ملین ڈالر ہے اور یہ اس علاقے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ایک پرتعیش ترین پراپرٹی ہے۔ پڑوسی کے مطابق ہر سال اس گھر کو کچھ ہفتوں کے لیے غیر ملکیوں کو کرائے پر دینے کا سلسلہ گزشتہ برس سے شروع کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ سعودی شہزادے کو 19 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس دوران شہزادے سے رابطہ کرنے کی کئی مرتبہ کوششیں کی گئیں، جو ناکام ثابت ہوئیں۔ ابھی تک یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ مجید عبدالعزیز السعود کا وکیل کون ہو گا۔ اس دوران واشنگٹن میں قائم سعودی سفارت خانے کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

ابھی قریب دو ہفتے قبل ہی بھارت میں متعینہ ایک سعودی سفارت کار پر بھی اپنی دو نیپالی ملازماؤں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جس کے بعد ریاض حکومت نے انہیں واپس بلا لیا۔