1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنسی حملے کے دوران سات سالہ بچے کا قتل، بھارت میں غصے کی لہر

بھارت میں ایک سات سالہ بچے پر جنسی حملے کی کوشش اور پھر اس کے بہیمانہ قتل کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بچے کی لاش اسکول کے ایک بیت الخلاء سے ملی جبکہ مبینہ ملزم اسکول بس کا کنڈکٹر ہے، جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ہفتہ نو ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اس جرم کے خلاف بہت سے مشتعل والدین نے نئی دہلی کے نواح میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ بھارتی دارالحکومت کے مضافات میں گڑ گاؤں کے رائن انٹرنیشنل اسکول میں پیش آیا، اور پولیس کو مقتول طالب علم کی لاش اس اسکول کے ایک بیت الخلاء سے جمعہ آٹھ ستمبر کے روز ملی تھی۔

گڑگاؤں کے ڈپٹی پولیس کمشنر سمرنجیت سنگھ نے ہفتے کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’اس جرم کے مبینہ ملزم اور اسکول بس کے کنڈکٹر اشوک کو جمعے کی رات ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔‘‘

ڈپٹی پولیس کمشنر کے مطابق، ’’ملزم اشوک نے اس بچے پر جنسی حملے کی کوشش کی تھی لیکن جب اس کم سن طالب علم نے شور مچانے کی کوشش کی تو ملزم نے اس پر ایک چاقو سے حملہ کرتے ہوئے اس کی شہ رگ کاٹ دی۔‘‘

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اسکول نائب پرنسپل نیرجا باترا کو معطل کر دیا گیا ہے لیکن اس اسکول کے سامنے اور گڑ گاؤں میں کئی دیگر مقامات پر اسی ادارے میں زیرتعلیم بچوں کے بہت سے مشتعل والدین اور دوسرے بھارتی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول انتظامیہ کے خلاف بھی مزید کارروائی کی جائے۔

ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس جرم کا ارتکاب اسکول کی حدود میں ہوا اور اس کے لیے اسکول انتظامیہ کو جواب دہ بناتے ہوئے وہاں زیر تعلیم بچوں کی سلامتی کے انتظامات کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔

قتل کیے گئے بچے کے والد ارون ٹھاکر نے اس احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ اسکول میرے بیٹے کی سلامتی اور تحفظ کی بنیادی ذمے داری بھی پوری نہ کر سکا۔ میں اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘

بھارتی ’ریپ گرو‘ کو دس برس قید کی سزا، سکیورٹی انتہائی سخت

بھارت میں جنسی حملوں کے خلاف راہبائیں کنگ فُو کلاسوں میں

جنسی زیادتی کا شکار، دس سالہ بچی ماں بن گئی

اس بارے میں گڑگاؤں کے ڈپٹی پولیس کمشنر سنگھ نے کہا کہ پولیس کے علاوہ اس جرم کی مقامی حکام کی طرف سے اپنے طور پر بھی چھان بین کی جائے گی اور اسکول کی طرف سے غفلت ثابت ہو جانے کی صورت میں اس ادارے کی انتظامیہ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

اس قتل کا علم ہونے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں مشتعل بھارتی والدین کل جمعے کے روز شدید غصے کے عالم میں اس اسکول کی عمارت میں بھی گھس گئے تھے، جہاں انہوں نے کافی توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔

برطانیہ کا شہر نیو کاسل: نوجوان لڑکیوں کے ’ریپ کی پارٹیاں‘

بھارت: ریپ کے بعد ایک ہی خاتون پر چوتھی بار تیزاب حملہ

بھارت کے مختلف حصوں سے بچوں پر جنسی حملوں کی خبریں تواتر سے ملتی رہتی ہیں۔ 2015ء میں وہاں بچوں کے ریپ کے مجموعی طور پر 10,854 مقدمات درج کیے گئے تھے۔

ایسے جرائم کے خلاف سرگرم سماجی کارکنوں کے مطابق بھارت میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیوں کہ ایسے بہت سے جرائم کی پولیس کو اطلاع دی ہی نہیں جاتی اور اکثر واقعات میں ایسے جنسی حملے ان افراد کی طرف سے کیے جاتے ہیں، جو متاثرہ بچے کو پہلے سے جانتے ہوتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:50

بھارت: گینگ ریپ کے ملزم کی رہائی پر احتجاج

DW.COM

Audios and videos on the topic