1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنسی تعقلقات پر بات کرنا خاتون میزبان کو مہنگا پڑ گیا

مصر میں شادی سے قبل جنسی تعلقات کا موضوع شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجو ایک خاتون ٹی وی میزبان نے اس پر بات کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عدالت نے انہیں تین سال کی سزا سنا دی۔ ابھی اس سزا پر عمل درآمد شروع نہیں ہوا۔

مصر کی ایک عدالت کے مطابق خاتون ٹی وی میزبان دعا صالح عوامی اخلاقیات کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہیں۔ سزائے قید کے علاوہ انہیں دس ہزار مصری پاؤنڈ، جو پانچ سو یورو کے برابر بنتے ہیں، کا جرمانہ بھی  کیا گیا ہے۔ تاہم اس عدالتی فیصلے کے خلاف ممکنہ اپیل کے عمل تک دعا صالح آزادی رہیں گی۔

دعا صالح نے جولائی میں ایک نجی ٹیلی وژن چینل پر اپنے پروگرام کے دوران مصر میں تنہا اپنے بچوں کی پرورش کرنے والی ماؤں کے موضوع پر بات کی۔ اس دوران انہوں نے مصنوعی طریقے سے اپنے پیٹ کو اس طرح سے پھلایا ہوا تھا کہ جیسے وہ خود بھی حاملہ ہوں۔

اس موقع پر صالح دعا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ خواتین مرد یا شوہر کے بغیر بھی بچوں کی پرورش کر سکتی ہیں، ’’خواتین اور مرد مختصر مدت کی شادی کر سکتے ہیں، بچہ بھی پیدا کر سکتے ہیں اور پھر اگر یہ دونوں چاہیں تو باہمی رضامندی کے ساتھ ایک دوسرے کو طلاق بھی دے سکتے ہیں۔‘‘

مصر: مظاہروں ميں شريک عورتوں سے جنسی بدسلوکی

جنسی طور پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف مصری خواتین کی جنگ

’الف لیلہ‘ کے جنسی اقتباسات تنقید کی زَد میں

تاہم ان کے اس بیان کے ساتھ ہی قدامت پسند مصری حلقے میں ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا اور دعا صالح کے خلاف مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد اس پروگرام پر تین ماہ کے لیے بند کر دیا گیا تھا کیونکہ دعا صالح نے ایسے غیر اخلاقی خیالات کی تشہیر کی ہے، جو مصری معاشرے کے لیے بالکل اجنبی ہیں۔

DW.COM