1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنسی بدفعلی کا سفارتی مراسلہ سازش ہے، انور ابراہیم

ملائیشیا کے اپوزیشن رہنما انور ابراہیم نے اپنے اوپر لگائے گئے اس خفیہ سفارتی کیبل کو یکسر مسترد کردیا ہے جس میں ان پر اپنے ایک مرد ماتحت کے ساتھ جنسی بدفعلی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

default

انور ابراہیم اپنی اہلیہ عزیزہ کے ہمراہ

63 سالہ انور ابراہیم پر ان دنوں اپنے 25 سالہ سابق معاون محمد سیف البخاری ازلان پر جنسی تشدد کا مقدمہ چل رہا ہے۔ انور ابراہیم 1993ء تا 98ء کے دوران ملائیشیا کے نائب وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے تحت حکومت انہیں اور ان کے تین جماعتی اپوزیشن اتحاد کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس معاملے سے متعلق خفیہ امریکی سفارتی کیبل ایک آسٹریلوی میڈیا گروپ Fairfax نے اتوار کو جاری کیں۔

وکی لیکس کی جانب سے فراہم کردہ سفارتی پیغامات آسٹریلوی اور سنگاپورکی خفیہ اداروں کے مندرجات پر مشتمل ہے۔ دونوں ممالک کی خفیہ سروس کے اہلکاروں نے رپورٹ کیا تھا کہ انور کو پھنسانے کی جوکوشش کی گئی تھی اس جال میں وہ الجھ کر رہ گئے تھے۔

Wahlen in Malaysia, Anwar Ibrahim in einem Wahllokal in Permatang Pauh

انور ابراہیم ملائیشیا کے نائب وزیر اعظم رہ چکے ہیں

اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کئے گئے تازہ بیان میں انور نے لکھا ہے کہ، ’’ کون ہے اس معاملے کا ماخذ، ملائیشیا پولیس کی خصوصی شاخ!‘‘ ملائیشین اپوزیشن رہنما نے یہ بھی لکھا ہےکہ ان خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے‘‘۔

انور کے وکیل سنکارا نائر نے ملائیشیائی اخبارات کی جانب سے اس معاملے کو اچھالنے پر تنقید کرتے ہوئے اسے جاری مقدمے کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ عام کرنے سے مقدمہ متاثر ہوسکتا ہے۔ نائر نے متعلقہ عدالت سے ان اخبارات پر توہین عدالت کے تحت مقدمہ کرنے کے لئے بھی رابطہ کیا ہے جو ان کے بقول بغیر تصدیق کے یہ خبریں شائع کر رہے ہیں۔

اگر انور ابراہیم کا جرم ثابت ہوجاتا ہے تو انہیں 20 سال تک کی جیل ہوسکتی ہے۔ ان پر اس سے قبل بھی اسی نوعیت کا ایک الزام لگا تھا جس کی پاداش میں چھ سال جیل کاٹ چکے ہیں۔ یہ الزام خاندان کے ڈرائیور پر جنسی زیادتی کے سلسلے میں تھا۔ انہیں 2004ء میں رہا گیا تھا۔ انور اُس الزام کو بھی رد کرتے ہوئے اسے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کے حامیوں کی کارستانی قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عابد حسین

DW.COM