1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنسی استحصال کرنے پر آسٹریلوی پولیس کے 26 اہلکار برطرف

آسٹریلیا کی جنوبی ریاست وکٹوریہ میں پیر کو شائع ہونےوالی ایک رپورٹ کے مطابق جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جرم میں کم از کم 26 پولیس افسران اور اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ باقاعدہ تفتیش کے بعد کیا گیا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے ملنے والی رپورٹوں میں پولیس کی جانب سے  جنسی زیادتی اور مجرمانہ لوٹ مار سے متعلق رویوں کی تفتیش کے لئے قائم ایک آزاد ٹاسک فورس کی رپورٹ عام کر دی گئی ہے۔ اس تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سن 2015 سے اب تک تقریباً ایک سو سے زائد ایسے واقعات کا پتہ چلا ہے کہ جن میں پولیس اہلکار جنسی استحصال اور امتیازی سلوک میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایسے دوسرے الزامات کی تفتیش جاری ہیں۔

برطانیہ کا شہر نیو کاسل: نوجوان لڑکیوں کے ’ریپ کی پارٹیاں‘

چرچ کے کوائر میں بچوں کے ساتھ زیادتی

امریکی این جی او پر مہاجرین کے جنسی استحصال کا الزام

بچوں کا جنسی استحصال، کلیسا نے چوتھائی بلین ڈالر ادا کر دیے

وکٹوریہ کے چیف پولیس کمشنر گراہم آسٹن نے کہا ہے کہ انضباطی جرائم سے متعلق الزامات کے مرتکب مجرموں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ جن میں سے تین افسران کو نکال دیا گیا  جبکہ باقیوں نے  استعفی دے دیا ہے جب کہ کچھ نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔

Australien Melbourne Proteste mit Gewalt (picture-alliance/abaca/AA)

آسٹریلوی پولیس کے خلاف ٹاسک فورس کو اس تفتیشی رپورٹ پر عوام میں تشویش پاسی جاتی ہے

آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں ایک رپورٹر کے سوال پر وکٹوریہ کے چیف پولیس کمشنر گراہم آسٹن نے کہا ہم  روزگار کی جگہوں پر ماحول تبدیل کرنے کے لیےکوشش کر رہے ہیں جس میں کافی مزاحمت دیکھنے میں آرہی  ہیں۔

آسٹن نے کہا میں اُن خاتون افسران سےادارے کی طرف سے معافی مانگتا ہو جن کا پولیس فورس کی جانب سے جنسی استحصال کیا گیا ہے اور اب ایسے واقعات کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

ٹاسک فورس کے سن 2015 کے جائزے کے مطابق پانچ ہزار افسران کے سروے سے پتہ چلنے کے بعد ذاتی طور پر جنسی ہراساں کیے جانےوالوں میں سات فیصد مرد جبکہ چالیس فیصد خواتین شامل ہیں۔ جنسی استحصال کے ایسے واقعات میں سے صرف گیارہ فیصد کی باضابطہ طور پر شکایات درج کرائی گئی تھیں۔

DW.COM