1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنرل کیانی کا دورہ واشنگٹن اور امریکہ کی جانب سے فوجی امداد

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ امریکی ڈرون حملوں کے خلاف حکومت نیم دلی سے احتجاج تو کرتی ہے مگر ان کی روک تھام کے لئے ابھی تک کوئی ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آسکے ہیں۔

default

افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان کی فضا میں پرواز کرنے والا پاکستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر

ایک طرف تو دہشت گردی کی عالمی مہم میں امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے اتحادی ہیں مگر دوسری طرف اس معاملے کی وجہ سے تناؤ کی کیفیت بھی بدستور قائم ہے۔

امریکہ بھی پاکستان کی جانب سے سخت بیانات کے باوجود پاکستان کی اقتصادی اور فوجی امداد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا گزشتہ دنوں انتہائی اہم دورہ امریکہ میں نائن الیون کے بعد ملنے والی امداد کے علاوہ پاکستانی فوج کیلئے 3 سو ملین ڈالرز کے جنگی سازوسامان کی فراہمی کے معاملات طے پائے ہیں۔

ایک امریکی ویب سائٹ ورلڈ پولیٹیکل ریویو کے مطابق اس دورہ میں فوج کے لئے اضافی ایک بلین ڈالرز دینے کا بھی وعدہ کیاگیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہرعباس اس امریکی امداد سے لاعلمی کا اظہارکرتے ہیں ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل اطہر عباس نے کہا کہ ’’امریکی انتظامیہ کو پاکستانی آرمی چیف نے قبائلی علاقوں میں فوج کو درپیش مشکلات کی بابت آگاہ کر دیا ہے کیونکہ دہشت گردی کی عالمی مہم میں پاکستانی افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے وسائل کی ضرورت ہے۔‘‘

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹرحسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کی صورتحال پرامریکی انتظامیہ کوفکر مندی ضرور ہے اور امداد پہلے بھی ملتی رہی ہے۔ ڈاکٹر رضوی کا کہنا ہے کہ امریکہ براہ راست رقم فراہم نہیں کرے گا۔ اوباما انتظامیہ کی تمام توجہ فوج کی ضرورتوں اور اسے گوریلا جنگ کی تربیت دینے پرمرکوز ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ملک کے طاقتور ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ اور وزیرخارجہ کے ہمراہ اوباما انتظامیہ سے واشنگٹن میں ایک ہفتے تک مذاکرات میں خطے کے حوالے سے نہایت اہم معاملات طے پائے ہیں۔ تاہم ان معاملات کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں مگر امریکی انتظامیہ پاکستانی فوج کوالقاعدہ اور طالبان جنگجوؤں سے مقابلے کے لئے ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لئے آمادہ ہے اس حوالے سے سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ سینیٹرجان کیری نہایت اہم کردار ادا کررہے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ پاکستان کی داخلی اور سیاسی مشکلات سے بھی آگاہ ہیں۔