1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنرل ڈیمپسی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر

امریکی صدر باراک اوباما نے جنرل مارٹن ڈیمپسی کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کے طور پر منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ عراق میں اہم محاذوں پر ایک مسلح ڈویژن کی قیادت کر چکے ہیں۔

default

جنرل مارٹن ڈیمپسی

باراک اوباما نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’چالیس سالہ سروس کے ساتھ، مارٹن ڈیمپسی ہماری قوم کے قابل احترام جنرلز میں سے ایک ہیں۔‘

امریکی صدر نے کہا: ’انہوں نے عراق میں ہمارے فوجیوں کی قیادت کی۔ وہ عراقی فورسز کو تربیت دے چکے ہیں اور یوں جانتے ہیں کہ قوموں کو بالآخر اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری خود اٹھانی ہے۔’

انسٹھ سالہ ڈیمپسی ایڈمرل مائیک مولن کی جگہ لیں گے۔ یہ اعلان میموریل ڈے کے موقع پر کیا گیا، جو امریکہ میں سرکاری چھٹی کا دِن ہے۔ اس کا مقصد جنگی ہیروز کی قربانیوں کو یاد کرنا ہے۔ گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس نے آئندہ وزیر دفاع اور افغانستان میں افواج کے کمانڈر کے لیے نامزدگیوں کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کے عہدے کے لیے نامزدگی کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم میں تبدیلیوں کے لیے نامزدگیوں کے اعلان کے تحت سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینیٹا کو وزیر دفاع جبکہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو سی آئی اے کا سربراہ نامزد کیا گیا تھا۔ یہ تبدیلیاں آئندہ برس امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم سے پہلے ہونا طے ہیں۔

Barack Obama im Weißen Haus Unterschrift Automat Flash-Galerie

امریکی صدر باراک اوباما

ان تبدیلیوں کی طویل عرصے سے توقع کی جا رہی ہے۔ موجودہ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کی تقرری سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے کی تھی، جن کا تعلق ریپبلیکن پارٹی سے تھا۔ گیٹس سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں جبکہ وہ پہلے ہی رواں برس وزارت دفاع کا قلمدان چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

پینیٹا رواں برس جون میں تہتر برس کے ہوجائیں گے۔ وہ کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے سابق امریکی نمائندے ہیں اور ہاؤس بجٹ کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ وہ سابق صدر بل کلنٹن کے بجٹ ڈائریکٹر اور چیف آف اسٹاف بھی رہے۔

پیٹریاس کی عمر اٹھاون برس ہے۔ وہ ایک معروف شخصیت ہیں اور انہیں عراق کو خانہ جنگی سے بچانے کے لیے سراہا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہیں افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو فورسز کی قیادت سونپ دی گئی۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس