1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنرل پیٹریاس کا دورہ پاکستان

وسطی ایشیاء کے پانچ ممالک کے دورے اور پاکستان میں حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی کابل روانگی سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ وہ افغانستان میں اتحادی افواج کی سپلائی لائن کے لئے متبادل راستے کی تلاش میں ہیں۔

default

جنرل پیٹریاس نےپاکستان کی اعلی سیاسی و فوجی قیادت سے ملاقات کی

اس حوالے سے جنرل پیٹریاس نے منگل کو پاکستانی صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقاتوں کے بعد اعلان بھی کیا کہ انہوں نے افغانستان میں اتحادی افواج کے لئے سازو سامان کی فراہمی کی غرض سے وسطی ایشیاء کے کچھ ممالک سے معاہدہ بھی کیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے لئے ایک بریفنگ میں جنرل پیٹریا س نے کہا کہ وہ پاکستان کے شمالی علاقوں سے بھی نیٹو کی سپلائی جاری رکھنا چاہتے ہیں اور یہ کہ سب کے مفاد کے لئے پاکستان اپنے اندرونی مسائل حل کرے۔ جنرل پیٹریاس نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ نئی امریکی انتظامیہ پاکستان، افغانستان اور پوری دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔ خیال رہے کہ اس وقت افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کے لئے تقریباً دو تہائی سامان کراچی سے خیبر ایجنسی کے ذریعے افغانستان پہنچایا جا رہا ہے ۔

اد ھر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نئے امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آئے گی۔

''یہاں تک کے امریکہ میں ان کی جو سابقہ پالیسیاں تھیں ان کے خلاف ووٹ پڑا ہے اور تبدیلی کے لئے ووٹ پڑا ہے ۔ اور پاکستان میں بھی چینج کے لئے ووٹ پڑا ہے تو اس لئے لازمی ہے کہ جو نئی حکومت آئے گی وہاں پر وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں گے ۔‘‘

قبل ازیں صدر آصف زرداری نے جنرل پیٹریاس سے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ امریکہ قبائلی علاقوں پر میزائل حملے روک کر وہاں اقتصادی بہتری کے وعدے پورے کرے۔ ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق صدرنے واضح کیا کہ میزائل حملوں سے حکومت کی حمایت میں کمی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہوئی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے خیال میں نئی امریکی انتظامیہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کا زیادہ دارومدار بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے تعاون پر مبنی ہو گا اور پاکستان کو پھر سے ’Do More‘ کے الفاظ بھی سننے پڑ سکتے ہیں۔ غالباً اسی صورتحال کی پیش بندی کرتے ہوئے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید نے کہا ہے کہ پاکستان سے ’Do More‘ اور مخلصانہ کردار ادا کرنے کا کہنے والے اپنے وعدے بھی پورے کریں۔