1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنرل نیجدت اُوزِل ترک فوج کے نئے سربراہ

گزشتہ جمعے کے روز ترک مسلح افواج کے سربراہان کے مستعفی ہو جانے کے بعد اکسٹھ سالہ جنرل نیجدت اوزل کو نئے آرمی چیف کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔

default

ترکی میں جنرل اوزل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی پیشہ ور فوجی ہیں اور سیاست سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ ترکی میں فوج کو سیاست سے دور رکھتے ہوئے سویلین حکومت کی بالا دستی قائم کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں نئے آرمی چیف ترکی میں ایک رول ماڈل ثابت ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ جمعے کے روز 61 سالہ اوزل کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی تھی، جب فوج میں مختلف افسران کی ترقیوں کے تنازعے پر دوسرے فوجی سربراہان کے برعکس انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا تھا۔

پچھلے ہفتے ترکی کے چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے بری، بحری اور فضائی فوج کے سربراہان کے ہمراہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ترک مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل ایسیک کوسانر (Isik Kosaner) ان 173 فوجی افسران کی گرفتاری کے خلاف تھے، جو ممکنہ طور پر 2003ء کی فوجی بغاوت میں شریک تھے۔ جنرل ایسیک کوسانر ان افراد کو ترقی دینا چاہتے تھے جبکہ ایردوآن حکومت ان ترقیوں کی مخالفت کر رہی تھی۔

NO FLASH Türkei Rücktritt von Militärchef Isik Kosaner

پچھلے ہفتے ترکی کے چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے بری، بحری اور فضائی فوج کے سربراہان کے ہمراہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا

اب ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے فوری طور پر جنرل اوزل کو ترقی دیتے ہوئے ہیڈ آف آرمی اور جنرل اسٹاف کا قائم مقام چیف بنا دیا ہے۔ فوجی مبصرین کے مطابق ترکی کی اعلیٰ فوجی کونسل جمعرات تک نئے کمانڈروں کا انتخاب مکمل کر لے گی، جس کے بعد اوزل کو باقاعدہ طور پر آرمی سربراہ بنا دیا جائے گا۔ امریکہ کے بعد مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں دوسری بڑی فوج ترکی کی ہے اور اوزل نیٹو میں بھی ایک اہم پوزیشن سنبھالیں گے۔ ٹوڈے زمان نیوز پیپر کے مطابق اوزل وہ دوسرے چیف آف جنرل اسٹاف ہوں گے، جنہوں نے نیٹو میں کبھی بھی خدمات سرانجام نہیں دیں۔

جنرل اوزل 1950ء میں انقرہ کے ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور روانی سے انگریزی بولتے ہیں۔ انہوں نے ہائی اسکول کے بعد براہ راست فوجی اکیڈمی میں داخلہ لیا تھا اور بیس سال کی عمر میں پیدل فوج کے ایک اسکول سے گریجویشن کی۔ 1995 میں ان کو بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی تھی۔ سن 2010 میں انہیں Gendarmerie فورس کی کمانڈ دے دی گئی۔ یہ فورس ترک دیہی علاقوں میں پولیس کا کام کرتی ہے۔ یہی فورس ترکی میں کرد باغیوں کے خلاف برسر پیکار بھی ہے۔

اوزل کے ایک ہم جماعت Namik Cinar کا کہنا ہے کہ وہ ایک پیشہ ور فوجی ہیں اور سیاست سے ہمیشہ دور رہے ہیں۔ اس کا ثبوت اس وقت بھی ملا، جب ترک آرمی کے افسروں نے ان قید فوجی افسروں سے ملاقات کی، جو کہ ممکنہ فوجی بغاوت میں شریک تھے۔ اوزل ملاقات کرنے والے فوجی افسروں میں شامل نہیں تھے۔ ترک فوج 1960 کے بعد سے چار مرتبہ سویلین حکومت کو گھر بھیج چکی ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM