1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جنرل راحیل شریف نے ملک سے باہر جانے میں مدد فراہم کی،‘ مشرف

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے ایک ٹيلی وژن انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف نے انہیں ملک سے باہر جانے میں مدد فراہم کی تھی۔

پاکستانی ٹی وی چینل ’دنیا نیوز‘ کے ایک پروگرام میں پرویز مشرف سے سوال پوچھا گیا کہ پاکستان سے روانگی کے معاملے ميں کیا انہیں جنرل راحیل شریف نے مدد فراہم کی تھی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق صدر نے کہا،’’ یقینا انہوں نے مجھے مدد فراہم کی۔ مجھے اس بات کا یقین ہے اور میں ان کا شکر گزار ہوں۔ میں فوج میں ان کا سربراہ رہ چکا ہوں اور پاکستانی فوج کا سربراہ بھی۔‘‘

مشرف نے کہا کہ سابق فوجی سربراہ نے اس ليے مدد کی کیوں کہ ان کے خلاف کيسز صرف سیاسی نوعيت کے تھے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی انہی کی بنياد پر ڈالا گیا تھا۔

پروگرام ’آن دا فرنٹ‘ میں پرویز مشرف نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے دعوی کيا کہ جنرل راحیل شریف نے بلا واسطہ طور پر عدلیہ پر دباؤ ڈالا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ بد قسمتی ہے کہ عدالتیں پس منظر میں رہ کر کام کرتی ہیں اور فیصلے دیتی ہیں۔ جنرل راحیل نے عدلیہ پر حکومت کی جانب سے دیے جانے والے دباؤ کو دور کیا۔‘‘ جنرل مشرف کے مطابق جب اس دباؤ میں کمی آئی تو انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت مل گئی۔

سابق صدر اس برس مارچ میں دبئی روانہ ہوگئے تھے۔ ان پر کئی ديگر مقدمات کے علاوہ غداری کا مقدمہ بھی ہے۔ انہوں نے عدالت سے خراب صحت کے باعث بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت مانگی تھی۔

واضح رہے کہ کچھ تجزیہ کاروں کی رائے میں پاکستانی فوج اب بھی ملکی سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرتی ہے اور اہم معاملات پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔