1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جناح پر کتاب مہنگی پڑی، جسونت سنگھ بی جے پی سے بے دخل

بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے سینئر رہنما جسونت سنگھ کو بانیء پاکستان کی زندگی پر کتاب لکھنے اور جناح کو عظیم بھارتی قوم پرست قرار دینے پر پارٹی کی بنیادی رکنیت سے بے دخل کردیا ہے۔

default

جسونت سنگھ نے بھی اڈوانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بانی پاکستان کوایک عظیم قوم پرست رہنما قرار دیا ہے

جسونت سنگھ کے بھارتی جنتا پارٹی سے نکالے جانے کی وجہ ان کی تصنیف کی ہوئی وہ کتاب بنی، جس میں انہوں نے بانیء پاکستان محمد علی جناح کوایک ’عظیم شخصیت‘ قرار دیتے ہوئے ان کی زبردست تعریف کی ہے۔ پیر کو منظرعام پر آنے والی جسونت سنگھ کی اس کتاب میں تقسیم ہند کے لئے آنجہانی پنڈت جواہرلال نہرو اور کانگریس پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

بی جے پی نے جسونت سنگھ کی کتاب سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے باہر کرنے کا فیصلہ کیا۔ پارٹی صدر راجناتھ سنگھ نے شمالی بھارت کے تفریحی مقام شملہ میں رپورٹرز کے ساتھ بات کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ اس وقت بی جے پی کے رہنما شملہ میں ایک تین روزہ میٹنگ میں شرکت کررہے ہیں۔ اس سے قبل سن 2005ء میں بے جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے محمد علی جناح کو سیکولر لیڈر بتایا تھا۔

ہندوقوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے اسی ہفتے پیر کے روز اپنی کتاب Jinnah -India- Partition - Independence کی تقریب رونمائی کی، جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔

اس کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر ملک اور بیرون ملک کے متعدد اہم دانشوروں اور صحافیوں سمیت قومی دارالحکومت کی مقتدر شخصیات موجود تھیں۔ سیاسی رہنماوں‘ دانشوروں اور صحافیوں کا ایک بہت بڑا مجمع، غیرمتوقع طور پربانی پاکستان محمد علی جناح کے لئے رطب اللسان تھا اور ان کی تعریف و توصیف کی گن گارہا تھا ، جنہیں ابھی تک بھارت میں بالعموم ایک ویلن کی طرح پیش کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن بی جے پی اور اس کی تنظیم کے تمام بڑے رہنما وں نے اس تقریب کا بائیکاٹ کیا۔ تاہم اس سے کسی کوحیرانی نہیں ہوئی۔ کیوں کہ چند سال قبل بی جے پی کے اس وقت کے صدر اور سابق نائب وزیر اعظم لا ل کرشن اڈوانی کو محمد علی جناح کی تعریف کرنے کی پاداش میں اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔

Jinnah -India- Partition - Independence نامی اس کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر تمام مقررین نے بھی اس کی تائید کی اور کہا کہ 62 سال گزر جانے کے بعد کم سے کم اب ہمیں تاریخ کا معروضی جائزہ لینا چاہئے ۔سابق مرکزی وزیر اور ماہرقانون رام جیٹھ ملانی نے مختلف دلائل سے جناح کو ایک قوم پرست رہنما ثابت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محمد علی جناح ایک سیکولر رہنما تھے۔

Pakistan Unabhängigkeitstag Staatsgründung 1947

جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بھارت میں محمد علی جناح کو ایک برا آدمی یا ویلن بنا کر پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کہ کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کی شکایت کو نظر اندازکردیا اور 1937ء میں جناح کے نمائندے چودھری خلیق الزماں سے ملاقات کے دوران نہرو کی ہٹ دھرمی نے تقسیم کی بیج بوئے۔

جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں بھارت میں پائی جانے والی اس عا م رائے کی بھی مخالفت کی ہے کہ محمد علی جناح ہی 1947ء میں بھارت کی تقسیم کی ذمہ دار تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خیال درست نہیں ہے۔

جسونت سنگھ نے لکھا ہے کہ دراصل بھارت کی تقسیم کےلئے بڑی حد تک جواہر لال نہرو ذمہ دار تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ نہرو مرکزی نظام کو بہت اہمیت دیتے تھے جبکہ جناح وفاقی نظام کے خواہش مند تھے حتی کہ گاندھی نے بھی اسے تسلیم کرلیا تھا مگر نہرو نہیں مانے۔

جسونت سنگھ نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت کی تقسیم کا سب سے زیادہ خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔ اگر ملک تقسیم نہیں ہوتا تو بلا شبہ مسلمان یہاں ایک بڑی طاقت ہوتے۔ بی جے پی کے رہنما نے یہ بات بھی تسلیم کی ہے کہ آج بھارت میں مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ انہیں کسی دوسری دنیا کا شہری سمجھا جاتا ہے اور لوگ ان کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔

ہندی کے مشہور ادیب اور ناقد نامور سنگھ نے بھی جناح کو ایک عظیم شخصیت اور عظیم ہندوستانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل دونوں نے ہی اقتدار جلد ی میں حاصل کرنے کے لئے تقسیم کو قبول کرلیا تھا۔

Indien BJP Politiker Lal Krishna Advani

بی جے پی کے رہنما لا ل کرشن اڈوانی کو محمد علی جناح کی تعریف کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا

پاکستان کے مشہور صحافی اور ڈان گروپ کے چیئرمین حامد ہارون نے کہا کہ جناح کے ساتھ بھارت اور پاکستان دونوں ہی جگہ زیادتی ہوئی ہے اور دونوں ہی جگہ انہیں صحیح طور پر آج تک نہیں سمجھا جاسکا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے جناح کے اصل نظریات کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ سابق ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق کا ذکر کرتے ہوئے حامد ہارون نے کہا کہ جناح کی بعض نایاب تصاویر ‘جن میں انہیں مغربی پوشاک اورسگار پیتے ہوئے دکھایا گیا تھا‘ کوضائع کردیا گیا اور انہیں ایک مسلم مجاہد کی طور پر قوم کے سامنے پیش کیا گیا۔

جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں جناح کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ انہیں ایک عظیم انسان سمجھتے ہیں اور اسی سے متاثر ہوکر یہ کتاب لکھی ہے۔ جناح ایک ایسی چیز کو وجود میں لانے میں کامیاب ہوئے جس کا کوئی وجود نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ خود گاندھی نے جناح کو ایک عظیم بھارتی قرار دیا تھا۔ جسونت سنگھ نے سوال کیا ہے کہ آخر ہم کیوں اس بات کو قبول نہیں کرتے ۔ ہم کیوں غور نہیں کرتے کہ گاندھی نے ایسا کیوں کہا ہوگا؟

بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس نے خود کو جسونت سنگھ کی اس کتاب سے الگ کرتے ہوئے اور کہا ہے کہ جناح کے متعلق وہ اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ وہی اس ملک کی تقسیم کے ذمہ دار تھے۔

رپورٹ: افتخار گیلانی ‘نئی دہلی

ادارت: عاطف بلوچ