1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جمہوریہ کانگو میں ماحول دوست شجرکاری کا منصوبہ

جمہوریہ کانگو نے جنگلات کے تحفظ اور زمینوں کے کٹاؤ سے بچاؤ کے لیے وسیع پیمانے پر شجرکاری کے پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس وقت براعظم افریقہ کی کئی ریاستیں جنگلات کے خاتمے اور زمینی کٹاؤ کا بری طرح سے شکار ہیں۔

default

 کانگو کا شمار وسطی افریقہ میں کانگو طاس کے دس ممالک میں ہوتا ہے۔ اس خطے میں پائے جانے والے گھنے جنگلات جنوبی امریکہ کے ایمیزون طاس کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے جنگلات ہیں۔ اس خطے میں لوگوں کو محدود پیمانے پربجلی کی سہولت دستیاب ہے، جس کے باعث روشنی اوردیگر روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کی جاتی ہے۔

 وزارت جنگلات کے مطابق اس شجرکاری منصوبے کے دوران آئندہ دس سالوں میں ایک ملین ہیکٹر رقبے پر درخت لگائے جائیں گے۔ اس منصوبے پر ایک اعشاریہ تراسی بلین یورو لاگت آئے گی جبکہ پچاس ہزار لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

جمہوریہ کانگو کے کل رقبے کا 60 سے 65 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے اور یہاں جنگلات کی کٹائی کی شرح بھی کانگو طاس کی دیگر ریاستوں کی نسبت سب سے کم ہے۔ یہاں یہ امر باعث تشویش ہے کہ اصل مسئلہ کانگو کی ہمسایہ ریاستوں میں ہے، جہاں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جنگلات کی کٹائی میں شدت آتی جا رہی ہے۔

Amazonas Wald

ایمیزون کے گھنے جنگلات

کانگو کے صدرDenis Sassou Nguesso نے شجرکاری پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام غربت کے خاتمے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایک اہم پیش رفت ہے۔

افتتاحی تقریب کے دوران رضا کاروں کی جانب سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار پودے لگائے گئے۔ اس موقع پر کانگو کے اعلٰی عہدہ داروں کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات کے خواہاں ہیں۔ اس موقع پر بیس سالہ جینیفر ٹنڈیلہ کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں پہلی بار8 پودے لگائے ہیں اور اس اقدام کا مقصد ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

اس منصوبے کے لیے برازاویلا کی حکومت 300 ملین یورو فراہم کرے گی جبکہ ڈونرز اور دیگر متعلقہ تنظیموں کو ایک اعشاریہ پانچ بلین یورو فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

رپورٹ : شاہد افراز خان

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM