1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جمہوریت کی مضبوطی میں خواتین کا کردار، پاکستان میں کانفرنس

جمہوریت کی مضبوطی میں خواتین کے کردار کے موضوع پر اسلام آباد میں کانفرنس جاری ہے جس میں بارہ ممالک کی خواتین ارکان پارلیمان شریک ہیں۔ مریم نواز شریف نے کانفرنس کا افتتاح کیا جس پر حزب اختلاف نے اعتراض کیا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ملنے والی ایسوسی ایٹیڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق آج تیرہ مارچ بروز پیر شروع ہونے والی اس تین روزہ کانفرنس کا موضوع جمہوریت کی مضبوطی میں خواتین کا کردار ہے۔ کانفرنس میں بارہ ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان پارلیمان شریک ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز شریف نے اس کانفرنس کا افتتاح کیا۔ کانفرنس کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے خواتین پارلیمانی کاکس کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ خواتین کی فلاح اور انہیں با اختیار بنا کر معاشرتی ترقی کی جانب گامزن ہوا جائے۔

اس کانفرنس میں پاکستانی پارلیمان کی خواتین ارکان کے علاوہ ایران، عراق، ترکی، اردن، آسٹریلیا، رومانیہ، میانمار، سری لنکا، مالدیپ، انڈونیشیا اور نیپال کی خواتین ارکان پارلیمان شرکت کر رہی ہیں۔

پاکستان کی مجموعی آبادی میں خواتین کا تناسب نصف سے بھی زائد ہے۔ اگرچہ پاکستانی خواتین کو کسی حد تک حقوق بھی حاصل ہیں لیکن اب بھی خواتین کو معاشرتی سطح پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں مذہبی طبقے کا ایک حصہ خواتین کو چار دیواری تک محدود رکھنے کا حامی ہے۔

آج صبح مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اس کانفرنس سے متعلق ہیش ٹیگ #WPC17 ٹرینڈ کرتا رہا۔ سوشل میڈیا پر جہاں کئی خواتین نے اس کانفرنس کے انعقاد کو سراہا، وہیں پاکستان میں حزب مخالف کی سیاسی جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کئی سیاست دانوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مریم نواز شریف نے کس حیثیت میں اس کانفرنس کا افتتاح کیا۔

ایک ٹویٹر صارف کا کہنا تھا ’’خواتین ہر مقام پر ہیں مگر پالیسی سازی میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔‘‘