1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جمعیت علمائے اسلام کے قائدین پر حملے کیوں ہو رہے ہیں؟

سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین اور جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر ہونے والے حملے کو سیاسی اور عسکری ماہرین نے جے یو آئی کی نظریاتی اساس کا شاخسانہ اور ریاستی پالیسی کا رد عمل قرار دیا ہے۔

بلوچستان میں سیاسی امور کے سینئر تجزیہ کار عبدالحکیم بلوچ کے بقول مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر حملہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ شدت پسند کسی بھی وقت ریاست کی رٹ کو چیلنچ کر سکتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جمعیت علمائے اسلام (ف) پر ایک منظم منصوبے کے تحت حملے ہو رہے ہیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری پر آج ہونے والا حملہ بھی انہی حملوں کا ایک تسلسل ہے جو ماضی میں ہوتے رہے ہیں۔ جو لوگ ان حملوں میں ملوث ہیں وہ کسی بھی طور پر عام زہنیت کے لوگ نہیں ہو سکتے۔ ہمیں زمینی حقائق کا بھی جائزہ لینا ہو گا۔ اس تمام تر صورتحال کے پیچھے ایک مخصوص سوچ کار فرما ہے، جو اپنے اہداف کے ساتھ ساتھ اپنے مقصد کے لئے ریاست کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔‘‘

حکیم بلوچ نے کہا کہ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر مستونگ میں ہونے والے حالیہ حملے سے ریاست مخالف عناصر کے عزائم مزید کھل کر سامنے آ گئے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا، ’’جمعیت علمائے اسلام کے قائدین پر حملے اس جماعت سے وابستہ بعض رہنماؤں کی شدت پسندوں پر تنقید کا رد عمل بھی ہو سکتا ہے۔ بعض انتہا پسند اور شدت پسند کالعدم تنظیمیں جے یو آئی ف کی سیاسی نظریات سے شدید اختلافات رکھتی ہیں۔ شدت پسندوں نے اس حملے کے ذریعے ریاست کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ریاست کی جانب سے آپریشن ردالفساد کے ذریعے انہیں کمزور کرنے کے دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔‘‘

حکیم بلوچ کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی سوچ کو شکست دینے کے لئے ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ  دینی مدارس اور مساجد کے علمائے کرام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سیاسی امور کے ماہر ندیم خان کے بقول مولانا عبدالغفور حیدری پر حملے نے ملک میں اہم شخصیات کی سکیورٹی پر کئی سولات کو جنم دیا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اس حملے کے اگرچہ دیگر کئی عوامل ہو سکتے ہیں لیکن میرے خیال میں اس حملے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ شورش زدہ مستونگ میں شدت پسندوں کے لئے جے یو آئی ف کے رہنماوں کا قافلہ ایک سافٹ ٹارگٹ تھا۔ اس ضلع میں ماضی میں بھی بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ یہاں سکیورٹی کے حوالے سے موثر انتظامات کئے جاتے لیکن جس طرح آسانی سے یہ حملہ کیا گیا ہے یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہاں سکیورٹی انتظامات غیر تسلی بخش تھے۔‘‘

ندیم خان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی مضبوط اور وسیع نظریات کی حامل جماعت ہے، جو امریکی مخالفت میں بھی ہمیشہ سب سے اگے رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اس وقت ملک میں جاری آپریشن ردالفساد سے ریاستی ادارے شدت پسندوں کو کمزور کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں لیکن اس ذہینت کو ختم نہیں کر سکے ہیں، جوا س سوچ کو پروان چڑھانے میں اب بھی موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت سیاسی عدم توازن ملک میں قومی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت یکطرفہ پالیسی کے بجائے سیاسی قیادت کی مشاورت سے ایسی پالیسی مرتب کرے جو شدت پسندوں کو شکست دینے کے لئے سود مند ثابت ہو سکے۔"

 دفاعی امور کے سینئر تجزیہ کار میجر (ر) محمد عمر کا کہنا ہے کہ جے یو آئی  ف کے نظریاتی موقف اور سیاسی اتحادوں کے درمیان نمایاں فرق بھی کئی عوامل کی نشاندہی کرتا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ، "جے یو آئی ملک میں نفاذِ شریعت کی حامی اور دعویدار ہے تاہم اس کے باوجود وہ مختلف سیکولر جماعتوں کے ساتھ سیاسی اتحادوں میں بھی شامل رہی ہے۔ میرے خیال میں جے یو آئی کے رہنماوں کے خلاف حملوں کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شدت پسند گروپوں کو اس جماعت کی اندرونی پالیسی پرکئی اعتراضات ہیں۔"

میجر (ر) محمد عمر کا کہنا تھا کہ عبدالغفور حیدری ایک سیاسی رہنما کے ساتھ ساتھ سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین جیسے اہم عہدے پر بھی فائز ہیں اس لئے ان پر حملہ ایوان بالا میں ہونے والے فیصلوں کا ایک ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مذید کہا، ’’پاکستان میں شدت پسندی جس طویل اور منظم سوچ کی عکاس ہے وہ اتنی جلدی ختم نہیں کی جا سکتی جس طرح ریاست اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے شدت پسندی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ان پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیں، جو ماضی میں اس حوالے بنائی گئی تھیں ۔ "

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر قائدین پر ماضی میں بھی تسلسل کے ساتھ حملے ہوتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2014 میں مولانا فضل الرحمان پر کوئٹہ میں میکانگی روڈ پر بھی ایک خودکش حملہ کیا گیا تھا، جس میں تین افراد ہلاک اور متعدد دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے۔

قبل ازیں ، پنجگور، قلات، مستونگ ، تربت اور اواران میں بھی جے یو آئی ف کے متعدد مقامی رہنماء مختلف حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

مستونگ میں آج ہونے والے حملے کو سکیورٹی حکام نے خود کش حملہ قرار دیا ہے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔ اس حوالے سے دو تحقیقاتی ٹیمیں بھی صوبائی حکومت کی جانب سے تشکیل دے دی گئی ہیں۔