جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی کے کراچی میں امیر ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 17.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی کے کراچی میں امیر ہلاک

ڈی ڈبلیو کے کراچی میں نامہ نگار رفعت سعید کے مطابق کراچی میں رینجرز کے ساتھ مقابلے کے دوران ہلاک ہونے والے دو مبینہ دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے گروپ جماعت الاحرار کا کراچی کا امیر نوشاد خان عرف لالہ یونس عرف شمس ماما بھی شامل ہے۔

ہلاک ہونے والے دوسرے مبینہ دہشت گرد کی شناخت ملک تصدق کے نام سے کی گئی ہے جو سکیورٹی ذرائع کے مطابق لشکرجھنگوی کراچی کا امیر تھا۔ ملک تصدق طویل عرصے سے عبادت گاہوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں مبینہ دہشت گرد سنگین نوعیت کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔

PAKISTAN Sehwan Anschlag auf Sufi-Schrein (Getty Images/AFP/Y. Nagori)

گزشتہ شب لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں 75 افراد ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے شہر سہون شریف میں واقع صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں گزشتہ شب ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں 75 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں کریک ڈاؤن میں 40 سے زائد مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔