1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جلسے اور سیاسی بیانات، پاکستان میں سیاسی درجہء حرارت بڑھ رہا ہے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں دو افراد نواز شریف کے کاغذات ٹھیک کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کبھی بھی ٹیکس جمع نہیں کرسکتا۔

لیاقت باغ راولپنڈی میں احتساب ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کپتان نے کہا، ’’نیب چھوٹے چوروں کو پکڑ رہی ہے اور ملک کے سب سے بڑے ٹیکس چور کو آزاد چھوڑا ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ملک کے سارے ادارے کرپشن کے باعث تباہ ہوچکے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہُ ان کی پارٹی نیب، ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کے دفاتر کے سامنے مظاہرے کرے گی۔
انہوں نے نواز شریف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’نواز شریف کا نام پانامہ لیکس میں آیا ہے اور ہم پانچ ماہ سے نواز شریف سے پوچھ رہے ہیں کہ انہوں نے یہ اربوں کی جائیدادیں کیسے بنائی۔ اِس ریلی کی منزل مقصود لاہور ہے۔ میاں صاحب ہمارے لاہور آنے سے پہلے کچھ کر لو۔ پھر آپ کچھ نہیں کر سکو گے اور اس مرتبہ آپ کے پاس جدہ جانے کا وقت بھی نہیں ہوگا۔‘‘
عمران خان نے نواز شریف کے ترقیاتی پروگراموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’قومیں اُس وقت ترقی کرتی ہیں، جب وہ میڑو کے بجائے انسانوں پر پیسہ خرچ کرتی ہیں۔ تعلیم و صحت پر پیسہ خرچ کرتی ہیں اور لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔‘‘
عمران خان کی تنقید کا فوری جواب وفاقی حکومت کے ترجمان پرویز رشید کی طرف سے آیا، جنہوں نے عمران خا ن اور ان کو قریبی رفقاء پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اُن کے نام آف شور کمپنیوں میں ہیں۔ انہوں کے کہا عمران خان کو ملنے والی چیرٹی کی رقم کی ذاتی اکاوئنٹس میں منتقلی پر برطانیہ میں تحقیق ہورہی ہے۔

Pakistan Politiker Imran Khan PTI Rede

حکومت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید دباؤ کا شکار ہے


’’قومی وحدت کے دن عمران خان قوم کو تقسیم کیوں کرتے ہیں۔ جھوٹ کے راستے پر گامزن عمران خان ہمارے سوالوں کے سچ جواب نہیں دیں گے۔‘‘
عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما دانیال عزیز نے میڈیا کو یہ بیان جاری کیا، ’’عمران خان اسٹیٹیس کو کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ عمران خان خود آف شور کمپنیوں، پارٹی فنڈز میں خردبرد اور سٹہ بازی کے حوالے سے جواب دیں۔‘‘
پاکستان کے سیاسی درجہء حرارت میں ہفتے کی صبح سے ہی حدت محسوس ہو رہی۔ ہفتے کی صبح وزیرِاعظم نواز شریف نے پنجاب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں اپنی حکومت کے کارناموں سے عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کی وہیں انہوں نے حزب اختلاف کو بھی آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کی۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’سنجیدہ سیاست کنٹینر سے نہیں کی جاتی۔ یہ کوئی ون ڈے یا ٹیسٹ میچ نہیں ہے۔ عوام نے گندی زبان کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔‘‘
کراچی میں اپوزیشن رہنما خورشید شاہ اور لاہور میں حمزہ شہبازکے بیانات بھی آج ذرائع ابلاغ کی زینت بنے رہے۔ شاہ صاحب نے ایک بار پھر اپنی توپوں کا رخ وزیرِ داخلہ کی طرف کرتے ہوئے کہا،’’چوہدری نثار اگر کام کر رہے ہوتے تو نیشنل ایکشن پلان پر کام ہو رہا ہوتا۔ نثار ملک میں افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو دیکھنا چاہیے کہ چوہدری نثار کے بیانات کہیں جمہوریت کے خلاف سازش تو نہیں ہیں۔‘‘
لاہور میں حمزہ شہباز نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا،’’عمران خان کو شیروانی اپنی جیب سے سلوا کر دے دیتا ہوں۔ عمران خان کے ٹارگٹ بدلتے رہتے ہیں لیکن اصل ہدف کرسی ہے۔ لوگوں کو کہیں کہ وہ عمران خان کو وزیرِ اعظم کہیں۔‘‘
بیانات اور رد بیانات کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا، جہاں پنڈی میں شیخ رشید اور نون لیگ نے اپنی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا۔