1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جلا وطن پاکستانی سیاستدان کا ’ریاست مخالف‘ بیان: حکام کے غصے کا سبب

پاکستان کا اقتصادی مرکز کراچی شہر ایک بار پھر افراتفری کا شکار ہے۔ حکام نے ایم کیو ایم کے کئی رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ حکومت ایم کیو ایم پر اعتماد کیوں نہیں کرتی۔ ڈی ڈبلیو کا تجزیہ۔

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم پاکستانی حکام کے براہ راست عتاب کا نشانہ اُس وقت بنی جب پیر 22 اگست کو اس جماعت کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین نے پاکستانی فوج پر الزام لگایا کہ وہ اس کے کارکنوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے۔

الطاف حسین 1990ء سے خودساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پیر کے روز کراچی میں اپنے حامیوں سے خطاب میں انہوں نے پاکستان کو ’دہشت گردی کا گڑھ‘ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستانی حکام کو خبردار کیا کہ اگر ان کے کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا تو ان کے حامی پاکستان کے وفادار نہیں رہیں گے۔

ان کے خطاب کے فوری بعد احتجاجی افراد کے ایک گروپ، جن کا تعلق مبینہ طور پر ایم کیو ایم سے تھا، کراچی میں قائم پاکستان کے ایک پرائیویٹ ٹیلی وژن کے دفتر پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ ایم کیو ایم کا الزام ہے کہ یہ ٹیلی وژن ملکی فوج اور اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیتا ہے اور اس کی آواز کو دباتا ہے۔ تاہم اس جماعت کی طرف سے بعد ازاں تردید کی گئی کہ اس کے حامیوں نے ٹیلی وژن پر حملہ کیا ہے۔

پاکستانی حکام ایم کیو ایم پر فتنہ پردازی، لوگوں کے اغواء اور قتل کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ پیراملٹری فورس رینجرز نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو فی الفور حراست میں لے لیا جن میں ملکی پارلیمان کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ شب اس جماعت کے ہیڈکوارٹرز کو سیل بھی کر دیا۔

رینجرز نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو فی الفور حراست میں لے لیا

رینجرز نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو فی الفور حراست میں لے لیا

رینجرز کے ایک کمانڈر نے منگل 22 اگست کو صحافیوں کو بتایا، ’’ہم نے ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز اور اس کے ہاسٹل کو سِیل کر دیا ہے اور وہاں سے کچھ ہتھیار بھی مِلے ہیں۔‘‘

پاکستانی حکومت کے اقدامات کے باعث ایم کیو ایم کے رہنما حکومت مخالف بیانات میں نرمی لانے پر مجبور ہوئے۔ گزشتہ شب ہی الطاف حسین کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا، ’’میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے دِل کی گہرائیوں سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘ ایم کیو ایم کے سربراہ کا مزید کہنا تھا، ’’میں اپنے کارکنوں کی ماورائے عدالت گرفتاریوں اور بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے اپنے ساتھیوں کی حالت کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ میں تھا۔‘‘

کراچی پر کنٹرول کی ’جنگ‘

اسلام آباد میں رہائش پزیر پاکستان کے ایک سیاسی تجزیہ کار توصیف احمد خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ کراچی میں تین اسٹیک ہولڈرز ہیں، ایم کیو ایم، پاکستانی پیپلز پارٹی جس کے رہنما سابق صدر آصف علی زرداری ہیں اور پیرا ملٹری فورسز۔ پیراملٹری فورس رینجرز دراصل اس شہر میں امن بحالی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اگر کراچی میں امن ہوتا ہے تو انہیں وہاں سے نکلنا ہو گا۔ یہ شہر ان کا مستقل اڈہ بن چکا ہے۔ ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی بدعنوان ہیں۔ مگر سکیورٹی فورسز بھی کئی طرح کے مافیا کو چلا رہی ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے بحران کے حل کے لیے سیاسی تصفیے کی ضرورت ہے۔

توصیف احمد خان کے مطابق کراچی کی مہاجر آبادی ہمیشہ خود کو حاشیے سے لگی ہوئی اور نظر انداز تصور کرتی ہے: ’’1960ء کے عام انتخابات میں مہاجر عوام نے فوجی آمر ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔ اس پر فوجی اسٹیبلشمنٹ ناراض ہو گئی۔ مہاجروں اور ریاست کے درمیان اعتماد کی کمی آج بھی قائم ہے۔‘‘

گزشتہ شب ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز کو سیل بھی کر دیا

گزشتہ شب ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز کو سیل بھی کر دیا

تاہم اسلام آباد میں قائم قائد اعظم یونیورسٹی کے لیکچرر فرحان صدیقی کراچی شہر کی انتشار زدہ صورتحال کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیتے ہیں، ’’ایم کیو ایم ایک سیکولر اور لبرل پارٹی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے مگر حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔ اسے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے شہر کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے تشدد کے استعمال کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔‘‘

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اب کراچی شہر پر اپنا کنٹرول کھو رہی ہے، جو پاکستان کا صرف معاشی مرکز ہی نہیں بلکہ بحیرہ عرب کے قریب ہونے کے سبب اس کی علاقائی حوالے سے بھی بہت زیادہ اہمیت ہے۔

خاتمے کا آغاز؟

پیراملٹری فورسز نے ایم کیو ایم کے کراچی میں موجود رہنماؤں کو گزشتہ شب گرفتار کر لیا۔ پاکستانی حکومت، برطانوی حکومت کو ایک خط بھی لکھ رہی ہے کہ الطاف حسین کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ مختلف صوبائی پارلیمان ایم کیو ایم کے خلاف قرار دادیں بھی منظور کر چکی ہیں جبکہ کئی سیاست دانوں نے الطاف حسین کو ’غدار‘ قرار دیا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے کراچی میں نامہ نگار رفعت سعید کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما اب خود بھی الطاف حسین سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی مظہر عباس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’الطاف حسین کی پیر کے روز کی تقریر سے ایم کیو ایم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہاں تک کہ ایم کیو ایم کے رہنما بھی اس خطاب کی حمایت نہیں کر سکتے۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے باعث بہت سے افراد کی ہمدریاں الطاف حسین کے ساتھ تھیں مگر گزشتہ روز کی ان کی تقریر نے سب کچھ بدل دیا ہے۔‘‘

اضافی رپورٹنگ، ڈی ڈبلیو کے اسلام آباد میں نامہ نگار عبدالستار خان نے کی۔