1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جلاوطن سری لنکن صحافی کی حکومت پر تنقيد جاری

سری لنکا کے صحافی باشانہ کو سری لنکا ميں اپنی جان کا خطرہ ہے۔ انہيں قتل کی کوئی ٹھوس دھمکی تو نہيں ملی ليکن اُن کا کہنا ہے کہ سری لنکا ميں ايک ناقد صحافی کو کسی قسم کی ۔دھمکی ديے بغيربھی بس يونہی قتل کر ديا جاتا ہے۔

سری لنکا کی خانہ جنگی کے متاثرين

سری لنکا کی خانہ جنگی کے متاثرين

سری لنکا کے صحافی باشانہ ابی وردنے نے يہ بات ڈوئچے ويلے کے زير اہتمام منعقد ہونے والے تين روزہ گلوبل ميڈيا فورم ميں کہی۔

زيمبيا کا آن لائن اخبار Zambian Watchdog شائع کرنے والے لائڈ ہمابو بھی اپنے وطن کو خيرباد کہہ چکے ہيں اور وہ اس وقت جرمن شہر ہيمبرگ ميں مقيم ہيں۔ اس 30 سالہ جلا وطن صحافی نے کہا: ’’چند سال پہلے کے مقابلے ميں اب کرپٹ اور آمرانہ حکومتيں انٹرنيٹ سے زيادہ خائف نظر آتی ہيں۔ انٹرنيٹ کے ذريعے اطلاعات کو بہت تيزی سے پھيلايا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر زيمبيا کی حکومت ميری ويب سائٹ کو بلاک بھی کردے تب بھی ميں ای ميل يا سوشل ميڈيا کے ذريعے اپنی تنقيدی تحريروں کو اپنے ہم وطنوں تک پہنچا سکتا ہوں۔‘‘

باشانے ابی وردنے نے سن 2009 کے بعد سے انٹر نيٹ پر ايک بلاگ پر کام شروع کيا اور انہوں نے اسے Journalists for Democracy in sri Lanka کے نام سے ايک تنظيم ميں تبديل کر ديا، جو انٹر نيٹ پر اپنے مضامين شائع کرتی ہے۔ آج اس آن لائن اشاعت کے ليے سری لنکا حکومت کے ناقد تقريباً 70 صحافی لکھ رہے ہيں، جن ميں سے اکثر اپنے ملک سے باہر جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہيں۔

سری لنکا ميں تامل ايک ہنگامی امدادی کيمپ ميں

سری لنکا ميں تامل ايک ہنگامی امدادی کيمپ ميں

باشانے ابی وردنے نے کہا: ’’ميرے بہت سے دوستوں کو اس ليے قتل کر ديا گيا کيونکہ اُنہوں نے سری لنکا ميں خانہ جنگی کے بارے ميں لکھا تھا۔ اگر مجھے بھی مار ديا گيا ہوتا تو ميں آج کسی کی مدد نہيں کر سکتا تھا۔ ميں نے خطرہ بروقت محسوس کر ليا تھا اور اسی ليے ميں نے سن 2006 ہی ميں اپنا ملک چھوڑ ديا۔‘‘ آج يہ تقريباً 40 سالہ سری لنکن صحافی جرمنی ميں سياسی پناہ ليے ہوئے ہے۔

وہ جرمنی سےانٹر نيٹ کے ذريعے سری لنکا ميں انسانی حقوق اور پريس کی آزادی کے ليے کوشش کر رہے ہيں۔ سری لنکا ميں روايتی ميڈيا آزاد نہيں ہيں اور انہيں حکومتی جبر کا خطرہ مول لينا پڑتا ہے۔ باشانے ابی وردنے انہيں انٹرنيٹ کے ذريعے بالواسطہ طور پر مدد دے رہے ہيں۔ وہ مغربی ذرائع ابلاغ کے ساتھ بھی مل کر کام کرتے ہيں۔ انہی کی تنظيم نے بی بی سی اور دوسرے نشرياتی اداروں کو سری لنکا کی خانہ جنگی کے آخری دور ميں کيے جانے والے ہولناک جرائم کے اولين ثبوت فراہم کيے۔

سری لنکا کی خانہ جنگی ميں باغی تنظيم تامل ٹائيگرز کے بھرتی کيے بچہ فوجی

سری لنکا کی خانہ جنگی ميں باغی تنظيم تامل ٹائيگرز کے بھرتی کيے بچہ فوجی

جلاوطن صحافی باشانے ابی وردنے خود سری لنکا کی تامل اقليت سے تعلق نہيں رکھتے بلکہ وہ قوميتی لحاظ سے سنہالی اکثريت کا حصہ ہيں۔ انہوں نے کہا: ’’کيونکہ ميں تاملوں پر زيادتيوں پر زبان کھولتا ہوں، اس ليے بہت سے سنہالی مجھے غدار کہتے ہيں۔‘‘ ليکن ظلم اور زيادتی کو بيان کرنے ميں کوئی ان کا راستہ نہيں روک سکتا۔ انہوں نے کہا: ’’يہ مرنے والوں کا ہم پر قرض ہے اور زندہ بچنے والوں کو سچائی معلوم کرنے کا حق حاصل ہے۔‘‘

تاہم سری لنکا کی حکومت جرمنی ميں بھی اپنے اس ناقد صحافی کو چين کا سانس نہيں لينے ديتی۔ سری لنکا کے سفارتخانے نے برلن کی پوليس ميں يہ رپورٹ داخل کرائی کہ باشانے نے سفارتخانے کی املاک کو نقصان پہنچايا تھا۔ ليکن باشانے ابی وردنے بيان کردہ وقت پرپين کلب کی ايک تقريب ميں شريک تھے اور اس کا ثبوت بھی فراہم کر سکتے تھے۔

رپورٹ: آليکسانڈرا شيرلے / شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM