1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جلاوطن تبتیوں کے رہنما کے طور پر سانگے کا دوبارہ انتخاب

جلاوطن تبتیوں نے لوبسانگ سانگے کو ایک مرتبہ پھر اپنا سیاسی قائد منتخب کر لیا ہے۔ ان کا کام تبت کی وسیع تر خود مختاری کے لیے چین پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔

جلاوطن تبتی حکومت کی جانب سے بدھ ستائیس اپریل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ لوبسانگ سانگے تبت کی خود مختاری کے لیے جاری مہم کو مزید وسعت دیں گے۔

ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ لوبسانگ سانگے سن 2011ء سے ڈیرھ لاکھ جلاوطن تبتیوں کی سیاسی رہنمائی کے فرائم انجام دے رہے ہیں۔ ان کا تقرر تبتی بدھ بھکشوؤں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کی جانب سے اپنی سیاسی طاقت سے دستبرداری کے اعلان کے بعد ہوا تھا۔ دلائی لامہ اب صرف تبتی باشندوں کے روحانی رہنما کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ یہ جلاوطن تبتی حکومت بھارتی پہاڑی علاقے دھرم شالا میں قائم ہے۔

Indien neuer Ministerpräsident der tibetischen Exilregierung Lobsang Sangay

دلائی لامہ نے بھی سانگے کی سیاسی بصیرت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے

سن 1985ء میں تبت سے جلاوطنی اختیار کرنے والے 53 سالہ بدھ بھکشو چوئی زن نے روئٹرز سے بات چیت میں کہا، ’’میں نے لوبسانگ سانگے کو ان کی تعلیمی قابلیت کی وجہ سے ووٹ دیا ہے۔ عزت مآب (دلائی لامہ) کی خواہش ہے کہ کوئی ہو، جو ان کے کام کو آگے بڑھائے اور وہ سمجھتے ہیں کہ سانگے ایک مناسب اور درست شخصیت ہیں۔‘‘

81 سالہ دلائی لامہ جلاوطنی تبتیوں کے لیے ایک ایسا جمہوری نظامِ حکومت چاہتے ہیں، جو اتنا مضبوط ضرور ہو کہ وہ تبتی برادری کو جوڑے رکھے اور ان کے انتقال کے بعد اگر چین کے ساتھ مذاکرات کی نوبت آئے، تو اس کے لیے تیار ہو۔

یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا رہا ہے کہ اگر نوبل امن انعام یافتہ دلائی لامہ انتقال کر جاتے ہیں، تو ان کے بعد ایسا کون سا تبتی رہنما ہو گا جو تبتیوں کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھا سکے گا۔ تاہم ان سوالات کا جواب اب دلائی لامہ ہی کی زندگی میں ایک نئی سیاسی قیادت کے ظہور کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

اس جلاوطن گروپ کا کہنا ہے کہ وہ تبت کے لیے حقیقی خود مختاری کا خواہاں ہے، جب کہ چین کا موقف ہے کہ تبت کے خطے کو حقیقی خود مختاری حاصل ہے، تاہم جلاوطن تبتی قیادت تبت کی چین سے مکمل علیحدگی چاہتی ہے۔

دلائی لامہ سن 1959ء میں چین کے خلاف چلنے والی تحریک کی ناکامی کے بعد بھارت منتقل ہو گئے تھے۔

سانگے تبت کی مرکزی انتظامیہ (CTA) کی اگلے پانچ برس تک قیادت کریں گے۔ دنیا میں کوئی بھی ملک اس انتظامیہ کو تسلیم نہیں کرتا جب کہ چین بھی CTA سے بات چیت سے انکاری ہے۔