1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جلاد کو ہر پھانسی کے بدلے قید میں دو ماہ کی رعایت

بابل میاں کو نو عمری میں ایک ایسے قتل کے لیے جیل جانا پڑا، جو اُس کے بیان کے مطابق اُس نے نہیں کیا تھا۔ اب دو عشرے بعد اپنی رہائی کے وقت تک وہ بطور جلاد اپنے 17 ساتھیوں کو پھانسی دے چکا ہے۔

default

بابل میاں اُن پندرہ پیشہ ور جلادوں میں سے ایک ہے، جنہیں بنگلہ دیش بھر کی جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دینے کی باقاعدہ تربیت دی گئی ہے۔

جہاں ہمسایہ بھارت کو سن 2004ء کے بعد سے اپنے ہاں پھانسی کی پہلی سزا پر عملدرآمد کے لیے کوئی جلاد ہی نہیں مل رہا، وہاں بنگلہ دیش کو اپنی قیدیوں سے بھری ہوئی جیلوں میں سے کافی مقدار میں ایسے لوگ مل جاتے ہیں، جو جلاد کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے بابل میاں نے کہا، ’مجھے نہیں معلوم کہ گارڈز نے مجھی کو اِس کام کے لیے کیوں منتخب کیا‘۔ اُسے نوعمری میں اُس قتل کے لیے قصور وار قرار دیے جانے پر 31 برس قید کی سزا ہوئی تھی، جو اُس کے بیان کے مطابق اصل میں اُس کے بڑے بھائی نے کیا تھا۔

بابل میاں شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث سابق فوجی افسروں کو پھانسی دے کر ملک بھر میں مشہور ہو گئے

بابل میاں شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث سابق فوجی افسروں کو پھانسی دے کر ملک بھر میں مشہور ہو گئے

میاں کے مطابق ’جیلر نے مجھے بتایا کہ اگر میں جلاد بن جاؤں تو ہر پھانسی کے بدلے مجھے قید میں دو ماہ کی چھوٹ دی جایا کرے گی۔ اُس نے کہا کہ یہ ایک آسان کام ہو گا چنانچہ میں نے بخوشی یہ پیشکش قبول کر لی‘۔

بنگلہ دیش کو سزائے موت برطانوی نو آبادی طاقت سے ورثے میں ملی تھی۔ 1971ء میں پاکستان سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے اب تک بنگلہ دیش میں تقریباً 420 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد ہوا ہے جبکہ ایک ہزار سے زیادہ قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد ہونا باقی ہے۔

سنگاپور، جاپان اور ایران کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش اُن چند ممالک میں سے ایک ہے، جہاں ابھی تک پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جاتی ہے۔ پھانسی دینے والے تمام جلاد بابل میاں کی طرح قیدی ہوتے ہیں، جنہیں پہلے اس کام کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔

جن چند ملکوں میں ابھی بھی موت کی سزا پھانسی کے ذریعے دی جاتی ہے، اُن میں بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ جاپان، سنگاپور اور ایران بھی شامل ہے

بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ جاپان، سنگاپور اور ایران میں ابھی بھی موت کی سزا پھانسی کے ذریعے دی جاتی ہے

بنگلہ دیش کے شمال میں نیٹروکونا کے مقام پر واقع اپنے گھر میں اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے میاں نے، جو اب 40 برس کا ہے اور جسے گزشتہ برس رہا کیا گیا تھا، بتایا:’’کمزوری دکھانے یا جذباتی ہو جانے کی صورت میں انسان یہ کام نہیں کر سکتا۔ کوئی غلطی سرزد نہیں ہونی چاہیے ورنہ جیلرز بہت ناراض ہو جائیں گے۔‘‘

بابل میاں 14 برس کا تھا، جب اُسے جلاد کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ تب اُس نے تربیت لینا شروع کی کہ جیل میں پھانسی گھاٹ کیسے تیار کیا جاتا ہے، پھانسی کی گرہ کیسے سخت کی جاتی ہے اور کیسے سزا پانے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے سے ہر ممکن گریز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

جنوری 2010ء میں میاں نے اُن پانچ سابقہ فوجی افسران کو پھانسی دی تھی، جو 1975ء میں ملک کی موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث رہے تھے۔ ان پھانسیوں نے بابل میاں کو راتوں رات ملک بھر میں شہرت سے ہمکنار کر دیا اور ایک ٹیلی وژن چینل نے تین حصوں میں بنگلہ دیشی جیلوں پر ایک دستاویزی فلم بھی بنا ڈالی۔ بنگلہ دیش کی 67 جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے تاہم اصل تعداد 80 ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس