1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

جعلی کمپنیوں کا منرل واٹر: ’سالانہ ایک ملین پاکستانی یرقان کا شکار‘

بوتلوں اور واٹر ڈسپنسرز میں فروخت کیا جانے والا غیر صحت مند یا جعلی کمپنیوں کا منرل واٹر پینے سے ہر سال قریب ایک ملین شہری یرقان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اب اس بارے میں ملکی سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے۔

پاکستانی سپریم کورٹ میں یہ درخواست وطن پارٹی کے صدر بیرسٹر ظفر اللہ نے دائر کی ہے، جنہوں نے اپنی پٹیشن میں وفاقی حکومت کو بذریعہ کابینہ ڈویژن، وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور محکمہ ماحولیات اور ان کے علاوہ حکومت پنجاب کو فریق بنایا ہے۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عام شہریوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، جس کا مالی فائدہ 'منرل واٹر مافیا‘ اٹھا رہا ہے۔ اس بارے میں جب ڈوئچے ویلے نے بیرسٹر ظفر اللہ سے، جو وطن پارٹی کے صدر بھی ہیں، رابطہ کیا تو انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ایک تو حکومت کی طرف سے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا کوئی نظام نہیں ہے، جس کا فائدہ منرل واٹر مافیا اٹھا رہا ہے اور دوسری بات یہ کہ منرل واٹر کے نام پر گندہ، آلودہ اور مضر صحت پانی فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے لوگ خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔‘‘

بیرسٹر ظفر اللہ نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ’پانی مافیا‘ نے جگہ جگہ فلٹریشن پلانٹ لگا رکھے ہیں لیکن اس کے کارندوں کو پانی کی اہمیت اور اس میں ڈالے جانے والے نمکیات کی صحت مند مقدار کا سرے سے کوئی علم ہی نہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’اکثر بوتلیں تو نلکے کا پانی بھر کر مہنگے داموں بیچی جا رہی ہیں۔ پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر فلٹریشن کی بھی جا رہی ہے تو سرکاری پانی کس کی اجازت سے بیچا جا رہا ہے؟ یہ وہ بہت سے سوالات اور وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے ہمیں سپریم کورٹ میں یہ پٹیشن دائر کرنا پڑی۔‘‘

وطن پارٹی کے صدر ظفر اللہ نے پاکستان کی سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بوتلوں میں بند کر کے فروخت کیے جانے والے منرل واٹر میں سنکھیے (آرسینک)، سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار مقررہ معیار سے کہیں زیادہ پائی گئی ہے، ''گردوں کا خراب ہونا، ذیابیطس، ہائپر ٹینشن اور کینسر جیسے امراض میں اضافہ انہی کیمیائی مادوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پانی جن بوتلوں میں بند کر کے فروخت کیا جاتا ہے، وہ پولیتھین کی بنی ہوتی ہیں، جو بذات خود انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ اسی لیے ہر سال پاکستان میں دس لاکھ افراد یرقان کا شکار ہو رہے ہیں۔‘‘

جب ڈوئچے ویلے نے بیرسٹر ظفر اللہ سے پوچھا کہ ملک میں آئے دن ملاوٹ کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، ریستورانوں میں مضر صحت کھانے پیش کیے جاتے ہیں، دوائیاں تک جعلی ہوتی ہیں، تو ان پر اتنا شور نہیں ہوتا لیکن منرل واٹر کی بظاہر صاف نظر آنے والی بوتلیں اتنی خطرناک کیسے ہو سکتی ہیں، تو انہوں نے کہا، ’’ایسا نہیں ہے۔ میں اور میرے جیسے بہت سے پاکستانی ایسے مسائل کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔ میں نے برائلر مرغیوں کے بارے میں بھی پٹیشن دائر کر رکھی ہے کیونکہ ان کا گوشت انسانی صحت کے لیے مضر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ کی کئی صنعتی مصنوعات بھی مضر صحت ہیں۔ بات یہ ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ آپ کس کس مسئلے کی نشاندہی کریں گے؟‘‘

کیا منرل واٹر یا بوتلوں میں بند 'معدنیات سے بھرپور پانی‘ واقعی مضر صحت ہے؟ یہ جاننے کے لیے ڈی ڈبلیو نے رابطہ کیا اسلام آباد میں اپنا ایک معروف نجی کلینک چلانے والے ماہر امراض گردہ ڈاکٹر سہیل شاہ سے۔ انہوں نے کہا، ’’پلاسٹک کی بوتلوں میں بند ہونے کی وجہ سے یہ پانی اپنا معیار کھو رہا ہے۔ اگر پلاسٹک کی بوتلوں میں بند پانی کو دھوپ میں رکھا جائے تو اس میں Bisphonol-A نامی کیمیکل پیدا ہو جاتا ہے، جو ہارمونز کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ اس سے کینسر، بانجھ پن اور کئی دیگر بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر سہیل نے مزید بتایا کہ کمرشل RO یعنی Reverse Osmosis کے ذریعے کھارے پانی کو صاف کر کے منرل واٹر میں تبدیل کیا جاتا ہے اور پھر اسے پلاسٹک کی بوتلوں میں بھر کر دکانوں پر فروخت کیا جاتا ہے۔ اگر یہ برانڈ کسی مشہور کمپنی کے پانی کا ہو تو اس میں TDC یعنی Totally Dissolved Solids یا نمکیات کا لیول 300 یا اس سے کم رکھا جاتا ہے اور اسے ہر قسم کی جراثیمی آلودگی سے پاک کیا جاتا ہے۔ لیکن جعلی کمپنیوں کی بھر مار نے اس پورے عمل کو تباہ کر دیا ہے۔ ’’ اکثر منرل واٹر فروخت کرنے والی کمپنیاں تو پانی کے نام پر زہر فروخت کر رہی ہیں۔‘‘

برسوں تک منرل واٹر استعمال کرنے والی ایک خاتون صارف سائرہ جان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اب وہ اپنے گھر میں نل کا پانی ابال کر استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ایک بار پانی کی بوتلوں میں سے بدبو دار پانی نکلا اور تحقیق پر پتہ چلا کہ یہ پانی نل سے بھرا جاتا تھا اور بوتلیں تک صاف نہیں ہوتی تھیں، اس لیے پانی بدبودار ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے ہمارے گھر میں کوئی نہ کوئی بیمار ہی رہتا تھا۔ اس لیے ہم نے نل کا پانی ابال کر پینا شروع کر دیا۔‘‘

سائرہ جان نے شکایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ریاست کا کام انتظام چلانا ہوتا ہے، جو حمکرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے حکمران تو ہماری پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی پوری نہیں کر سکتے۔‘‘

اسی بارے میں اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں بیرونی مریضوں کے شعبے کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر مطاہر شاہ نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا، ’’ہمارے پاس اکثر ایسے مریض آتے ہیں، جو یرقان اور جگر کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان سے پوچھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ برسوں سے منرل واٹر استعمال کر رہے ہیں۔ اصل میں وہ منرل واٹر کے نام پر پیسے دے کر بیماریاں خرید رہے ہوتے ہیں۔‘‘

مطاہر شاہ نے مزید بتایا، ’’میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کو درست اور ضروری سمجھتا ہوں۔ پانی ہماری زندگی کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ اس کو آلودہ یا غیر صحت مند حالت میں بیچنا سراسر ظلم ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں جرائم کی روک تھام کے لیے قوانین تو بنتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ یہ بھی سچ ہے کہ یہ صرف حکومت ہی کی ذمے داری نہیں ہے۔ ہر کسی کو خود اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ جب حکومت ہم ہی میں سے کسی کو کسی مسئلے کے حل کی ذمے داری سونپتی ہے، تو ہم خود کو جرائم پیشہ گروپوں کے ہاتھ بیچ کر ایسے جرائم میں برابر کے شریک بن جاتے ہیں۔‘‘

پاکستانی سپریم کورٹ میں حال ہی میں دائر کردہ پٹیشن میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ کروڑوں انسانوں کی جانیں بچانے کے لیے منرل واٹر کے نام پر بوتلوں میں بند پانی کی فروخت پر فوری پابندی لگائی جائے اور وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو حکم دیا جائے کہ وہ پانی کی فلٹریشن کے پلانٹ لگائیں۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں کام کرنے والے تمام منرل واٹر پلانٹ بند کرائے جائیں اور آلودہ پانی بیچنے والوں کے لیے سخت سزائیں متعارف کرائی جائیں۔