1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

جعلی پینٹنگز کا مقدمہ: جرمنی میں سماعت شروع

جرمنی میں مصوری کے جعلی نمونوں کی فروخت کے مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ دو خواتین سمیت ان الزامات کا سامنا کرنے والے چار افراد کو جمعرات کو مغربی شہر کولون کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔

default

ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے مصوری کے جعلی نمونے لاکھوں یورو میں فروخت کیے ہیں۔ اس اسکینڈل نے آرٹ کی دنیا میں ایک ہلچل مچا دی تھی۔

استغاثہ کے مطابق مقدمے کا سامنا کرنے والے چاروں افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے پہلے مصوری کے کم از کم چودہ جعلی نمونے بنائے، پھر انہیں ایجنسیوں اور نیلام گھروں کے ذریعے بیچ دیا۔ ان نمونوں کو بیسویں صدی کے اوائل کے معروف مصوروں ماکس ایرنسٹ، فیرنانڈ لیگر، آندرے ڈیرائن اور ہائنرش کامپین ڈونک کی کاوشیں ظاہر کیا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ اس گروہ نے یہ کام کئی برسوں تک جاری رکھا اور اس دوران کم از کم ڈیڑھ کروڑ اٹھاون لاکھ یورو اکٹھے کیے۔

مستغیث کاتھرین فرانس نے مبینہ جعل ساز ساٹھ سالہ وولف گانگ بیلٹراشی کو ’تکنیکی ماہر‘ قرار دیا۔ ان کی اہلیہ تریپن سالہ ہیلینے کو بھی مقدمے کا سامنا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ چند گمنام پینٹنگز کو یہ ظاہر کرتے ہوئے منظر عام پر لائیں کہ وہ کولون کے معروف بزنس مین ان کے دادا ویرنیر ژیگر کی ملکیت رہی ہیں، جو 1992ء میں انتقال کر گئے تھے۔

ہیلینے کی چووّن سالہ بہن جینیٹ شپورسم بھی مبینہ طور پر اس جعل سازی میں شریک تھیں۔ سڑسٹھ سالہ اوٹو شلٹےکیلنگ ہاؤس چوتھے ملزم ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے بھی کچھ پینٹنگز کو اپنے مرحوم دادا ولہیلم کنوپس کی ملکیت قرار دیتے ہوئے پیش کیا۔

اس کے علاوہ تینتیس مزید پینٹگز کے بارے میں تفتیش جاری ہے، جن کے جعلی ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس گروہ نے متعدد ماہرین اور آرٹ گیلریوں کے ڈائریکٹروں کو اس بات کا قائل کر لیا تھا کہ پینٹنگز اصلی ہیں۔

یہ مبینہ جعل سازی اس وقت منظر عام پر آئی، جب 1908ء کی ظاہر کردہ ایک پینٹنگ میں ایسے رنگ ستعمال کیے جانے کا پتہ چلا، جو دریافت ہی دراصل 1935ء میں ہوئے تھے۔ الزامات ثابت ہونے پر ان افراد کو دس سال تک کی قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM