1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جعلی ملا منصور کو کابل آنے ہی نہیں دیا گیا۔ این ڈی ایس

افغان انٹیلی جنس ادارے نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی نے واضح کیا ہے کہ جعلی طالبان لیڈر ملا منصور سے مذاکرات کا عمل شروع ہونے سے قبل ہی اس پر شک ہوگیا تھا اور اسے کابل میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا۔

default

اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ برطانوی خفیہ ایجنسی MI6 نے اس مبینہ جعلی طالبان کمانڈر کو کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے متعدد بار پاکستان سے افغانستان پہنچانے کا کام سر انجام دیا تھا۔ دی ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایم آئی کے ایجنٹ اس شخص کو رائل ایئر فورس کے طیارے میں متعدد بار کابل لاچکے ہیں۔

دی ٹائمز نے افغان ذرائع کے حوالے سے دعوٰی کیا تھا کہ اس شخص کو کابل کے صدارتی محل میں صدر حامد کرزئی سے بھی ملایا گیا تھا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس شخص کو، جسے اب کوئٹہ شہر کا ایک معمولی دکاندار بتایا جارہا ہے، بہت بڑی رقم بھی دی گئی تھی۔ افغان صدر کے چیف آف سٹاف داؤد عمر زئی کے بقول، جس وقت اس شخص سے بات چیت کی جارہی تھی اس وقت برطانوی سفارتکار بھی موجود تھے۔ افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ وہ اس شخص سے نہیں ملے۔ برطانوی وزارت خارجہ نے ان خبروں کو نہ رد کیا ہے اور نہ ہی ان کی تصدیق کی ہے البتہ اتنا کہا ہے کہ، ’’ برطانیہ افغانستان میں مفاہمت کے عمل کے لئے عملی معاونت فراہم کر رہا ہے‘‘۔

Großbritannien Geheimdienst Gebäude MI6 in London

لندن میں برطانوی خفیہ ادارے MI6 کا مرکزی دفتر

ڈیلی ٹائمز نے نیٹو ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس ’طالبان بہروپے‘ کو پاکستانی جاسوس ادارے آئی ایس آئی نے تیار کیا تھا تاکہ افغانستان میں مذاکرات کے عمل پر اثر ڈالا جاسکے۔ اس دعوے کو پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع بوگس قرار دیا ہے۔

افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحدی علاقے میں ان کے ایجنٹس کو اس شخص پر شبہ ہوا تھا اور اسے کابل میں داخلے سے قبل ہی روک لیا گیا۔ بیان میں تسلیم کیا گیا کہ افغانستان کے اندر بعض جنجگووں سے مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

واضح رہے کہ ملا اختر محمد منصور طالبان حکومت میں مواصلات کے وزیر رہ چکے ہیں اور اس وقت وہ ملا عمر کے بعد طالبان کے دوسرے اعلیٰ ترین لیڈر ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس