1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جس کے موبائل میں فحش فلمیں ہوں گی پکڑا جائے گا

فحش فلموں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک خصوصی محکمہ قائم کر دیا گیا ہے۔ ایک مخصوص سافٹ ویئر لوگوں کے موبائل میں پورن فلموں کا پتا چلائے گا اور ملزم کو دو سال تک قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔

افریقی ملک یوگنڈا کی حکومت نے ایک خصوصی محکمہ قائم کر دیا ہے، جس کا کام فحش فلموں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ اس ملک کے مشہور اخبار ’ڈیلی مونیٹر‘ کے مطابق ابتدائی طور پر اس محکمے میں تیس لوگ بھرتی کیے گئے ہیں۔ یوگنڈا حکومت کے مطابق وہ اس طرح نوجوانوں کو نشے، کم عمری میں حاملہ ہونے، اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی سے دور رکھنا چاہتی ہے۔

پورن یا فحش فلمیں دماغ کو ضائع اور چھوٹا کرتی ہیں، تحقیق

زیادہ تر مسیحی آبادی پر مشتمل اس ملک کی وزیر اخلاقیات سمن لکوڈو کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں ہونے والے ’اخلاقی جرائم‘ کی ایک سنگین ترین وجہ فحش فلمیں ہیں۔ اس نئے محکمے کا نام پورنوگرافی کنٹرول کمیشن رکھا گیا ہے۔

اس محکمے کا کام ایسے افراد کی نشاندہی کرنا بھی ہو گا، جو فحش فلمیں انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں اور پھر انہیں پھیلاتے ہیں۔ مزید تفتیش کے لیے مشتبہ افراد کے نام پولیس کو فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق فحش فلموں کی روک تھام کے لیے ایک ایسا سافٹ ویئر استعمال کیا جائے گا، جو ایسے موبائل فونز کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن کے ذریعے سیکس فلمیں پھیلائی جاتی ہیں۔

موبائل میں فحش فلموں رکھنے والے افراد کو دو برس تک کی قید سنائی جا سکے گی۔ دوسری جانب ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایس ایم یو جی کا کہنا ہے کہ اس نئے محکمے کے ذریعے حکومت ہم جنس پرستوں کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کر سکتی ہے۔ اس تنظیم کا اپنی ویب سائٹ پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موبائل فونز کی نگرانی سے حکومت ہم جنس پرستوں کو شناخت کر سکتی ہے۔

یوگنڈا میں ہم جنس پرستی کی سزا 14 برس قید تک سنائی جا سکتی ہے۔ 

DW.COM