1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جسٹس ڈوگر نے توہین عدالت کا نوٹس چیلنج کردیا

پاکستان کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ایک آئینی درخواست میں موجودہ چیف جسٹس سمیت عدالت عظمیٰ کے پانچ ججوں کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔

default

اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک انتظامی حکمنامے کے ذریعے ان ججوں کی بحالی غیر آئینی ہے۔ اس کے علاوہ جسٹس ڈوگر نے تین نومبر2007 ء کو ملک میں نافذ کی گئی ایمرجنسی کو کالعدم قرار دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے 31 جولائی کے فیصلے پرنظر ثانی کے لئے الگ سے ایک درخواست بھی داخل کی ہے۔ بعد ازاں اپنے وکلاء نعیم بخاری اور احمد رضا قصوری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے 7 ماہ بعد سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں توہین عدالت کا جو نوٹس بھجوا یا گیا، اس کا جواب داخل کرا دیا گیا ہے اور یہ کہ وہ اس نوٹس پر عدالت سے معافی مانگنے کے بجائے اپنے دفاع میں مقدمہ لڑیں گے۔

عبدالحمید ڈوگر نے سوال اٹھایا کہ اگر انہیں غیر آئینی چیف جسٹس کہا جا رہا ہے تو پھر سابق صدر پرویز مشرف اور موجودہ صدر آصف علی زرداری کا صدارتی حلف نامہ کیسے آئینی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نومبر2007 میں نافذ کی گئی ایمرجنسی کو کالعدم قرار دینے والے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے حوالے سے کہا: ’’جہاں تک چودہ رکنی بینچ کا تعلق ہے اس کو میں نے چیلنج کیا ہے ان میں پانچ جج وہ ہیں، جنہیں میں نے عہد دیا ہے ان کو غیرآئینی کیوں نہیں کہا گیا۔‘‘

Jubelnde Richter in Pakistan

موجودہ چیف جسٹس وکلاء اور اپوزیشن جماعتوں کی کامیاب تحریک کے باعث بحال ہوئے تھے

دوسری جانب بعض حلقے جسٹس ڈوگر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواستوں کو پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال سے پیوستہ قرار دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے معروف وکیل طارق محمود نے کہا: ’’دوسرے لفظوں میں ڈوگر صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ پرویز مشرف کا 3 نومبر کا اقدام درست تھا لیکن 3 نومبر کے اقدام کو کوئی بھی قبول نہیں کر رہا۔ یہاں تک کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے آج تک اس کو مینڈیٹ نہیں کیا اور ایسا پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پارلیمنٹ کے عمل کی بھی مذمت کر رہے ہیں۔‘‘

اسی طرح سپریم کورٹ کے سابق جج وجیہہ الدین احمد نے بھی عبدالحمید ڈوگر کے طرز عمل کو عدلیہ کے وقار سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا: ’’ڈوگر صاحب نے میڈیا کے سامنے پوری قوم سے مسخروں کے انداز میں باتیں کر کے عدلیہ کی رہی سہی عزت کا ستیاناس کر دیا ہے۔‘‘

ادھر جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے حامی اور سابق وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نیازی کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی درخواستوں میں نہ صرف آئینی و قانونی لحاظ سے وزن ہے بلکہ ان کی تشریح کے دوران کئی مزید پیچیدگیاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

رپورٹ : شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر