’جسٹس فار زینب‘ | معاشرہ | DW | 10.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’جسٹس فار زینب‘

پاکستانی صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں ایک آٹھ سالہ بچی زینب کو اغوا کرنے کے بعد جنسی زیادتی اور قتل کیے جانے کے واقعے نے ہر شعبہ زندگی اور ہر سطح پر لوگوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ 

صوبے پنجاب کے درالحکومت لاہور سے محض 50 کلومیٹر دور واقع شہر قصور میں آٹھ سالہ زینب پانچ روز سے لاپتہ تھی۔ گھر کے باہر سے اغوا کی گئی اس بچی کے گھر نہ لوٹنے پر پولیس میں رپورٹ درج کروائی گئی تاہم پانچ دن تک جاری رہنے والی تلاش کا اختتام اس وقت ہوا جب  اس بچی کی لاش ایک کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق زینب کو کئی مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ڈی پی او قصور کا ایک مقامی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی یہ آٹھویں بچی ہے۔

بچوں سے زیادتی کا اسکینڈل، ایک اور معاشرتی ناسور کی نشاندہی

قصور اسکینڈل کے سلسلے میں تین پولیس اہلکاروں کا تبادلہ

 بچوں سے زیادتی کے کیس قصور سے زیادہ سامنے کیوں آرہے ہیں، اس حوالے سے بچوں کے تحفط کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر منیزے بانو کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات ملک بھر میں ہو رہے ہیں لیکن کیونکہ ماضی میں قصور میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی سامنے آچکے ہیں اس لیے یہ شہر اس حوالے سے زیادہ ہی سامنے آگیا ہے، ’’ہم ہر سال بچوں سے زیادتی کے جو اعداد و شمار اکھٹا کرتے ہیں ان میں راولپنڈی، لاہور، شیخوپورہ اور  مظفرگڑھ، ان علاقوں سے سب سے زیادہ کیس سامنے آتے ہیں۔ لیکن قصور میں  بچوں کے ساتھ زیادتی کا ماضی میں ہونے والا واقعہ سامنے آیا تھا جس کے بعد یہاں ہونے والے ان واقعات کا زیادہ ذکر کیا جاتا ہے۔ اب یہ واقعات وہاں کیوں ہو رہے ہیں اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ ایک تو وہاں چائلڈ لیبر موجود ہے۔ اس کے علاوہ یقیناﹰ طاقتور لوگوں کا اثر و رسوخ بھی موجود ہے۔ ماضی میں ہونے والے واقعات کے پیچھے بھی ایسے لوگوں کا ہاتھ سامنے آیا تھا جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اس لیے اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ اس واقعے کے پیچھے بھی طاقتور لوگ ہی موجود ہوں۔‘‘

واقعے پر شدید عوامی ردعمل 

قصور شہر میں ایک اور کم سن بچی سے زیادتی اور اس کے قتل کے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ قصور کی عوام اس واقعے پر سراپاء احتجاج ہے اور شہر میں شٹر ڈاون ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ زیادتی کے ملزم کو آئندہ چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیاجائے گا۔

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد  نے بتایا کہ بچی کے لواحقین نے سی سی ٹی وی ویڈیو فراہم کی ہے جس میں بچی کو ملزم کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ملزم کا خاکہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔  

سوشل میڈیا پر شدید مذمت

ملک بھر میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سوشل میڈیا کے سہارے اس واقعے کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔ اس وقت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ’ہیش ٹیگ جسٹس فار زینب‘ ٹرینڈ کر رہا ہے جس کے ذریعے ہر جانب سے زینب کے لیے انصاف کی آواز بلند کی جا رہی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ یہ ایک انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے جو پہلی بار نہیں ہوا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نوازکا اپنی ٹوئیٹ میں کہنا تھا کہ وہ دعا گو ہیں کہ مجرم جلد از جلد پکڑا جائے اور اسے قرار واقعی سزا دیتے ہوئے ایک مثال بنا دیا جائے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری اپنی ٹوئیٹ میں کہتی ہیں کہ متاثرہ خاندان کا سوچ کر وہ بہت دل گرفتہ ہیں۔

پاکستانی کرکٹر اظہر علی کہتے ہیں کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ کوئی انسان اس حرکت کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ زینب کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کے وقت اس کے والدین عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں تھے جو اب واپس شہر پہنچ چکے ہیں۔ زینب کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔  پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ میں شہریوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ دوسری جانب مقامی پولیس اس واقعے کی تفتیش کے سلسلے میں 60 سے زائد مشتبہ افراد  سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات