1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جسم پر نقش ونگاری ’جائز‘ یا ’ ناجائز‘

انیسویں صدی کے اوآخر تک بوسنیا میں یہ روایت تھی کہ کیتھولک مسیحی لڑکیوں کے جسم پر ٹیٹو بنوا دئے جاتے تھے تاکہ وہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہو سکیں کیونکہ اسلامی فقہا جسم پر نقش ونگاری کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔

default

انیس سو نوے کی دہائی میں دُنیا بھر میں جسم پر ٹیٹوز بنوانے کا نیا رواج چلا، جس سے مسلمان نوجوان بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ 25 سالہ دانسمین ایک مسلمان سٹوڈنٹ ہے۔ اس نے اپنے جسم پر کئی قسم کے ٹیٹوز بنوا رکھے ہیں۔ اس بارے میں وہ کہتا ہے۔

"یہ میرا سب سے پہلا ٹیٹو تھا۔ میرے دائیں بازو پر میرا ذاتی نام لکھا ہوا ہے جبکہ میرے بائیں کندھے پر دعائیہ ہاتھ بنے ہوئے ہیں اور ہاتھوں کے درمیان لکھا ہوا ہے، ’میرا فیصلہ صرف اللہ کر سکتا ہے‘۔ اس کے بعد میں نے اپنی کمر پر نقش ونگاری کروائی تھی اور اب مختلف تصویروں سے میری ساری کمر بھر چکی ہے۔‘‘

دانسمین معاشیات کا سٹوڈنٹ ہے اور اسے اپنے طاقتور جسم اور اس پر بنی ہوئی تصویروں پر فخر ہے۔ آج سے چار برس قبل اس نے اپنے جسم پر پہلی تصویر بنوائی تھی۔ آج ان تصویروں کی تعداد پانچ ہو چکی ہے۔ اسے اپنے جسم پر تصویریں بنوانے کا شوق ہے لیکن اسی شوق کے باعث اس کے تعلقات اپنے والد سے خراب ہو چکے ہیں۔ وہ بتاتا ہے۔

BdT Denis Cote zeigt seine Tattoos auf dem International Film Festival Locarno

ٹیٹوز بنواتے وقت شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے

’’ان ٹیٹوز کی وجہ سے میرے والد کے ساتھ میرے تعلقات ختم ہو چکے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے کبھی کبھار ملتے بھی ہیں۔ ایک دوسرے کی عزت بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے۔ اس کے باوجود میں اپنے راستے پر چل رہا ہوں اور وہ اپنے راستے پر۔ ہمیں ایک دوسرے کی آراء کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘

جیمک بھی ایک مسلمان لڑکا ہے۔ اس کے گھر کا ماحول اسلامی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسلام میں جسم پر نقش ونگاری کروانا منع کیا گیا ہے۔ انسان کو جسم ایسا ہی رکھنا چاہئے، جیسا اللہ نے اسے دیا ہے۔ جسم کو نہ تو تبدیل کرنا چاہئے اور نہ ہی تکلیف دینی چاہئے۔ جیمک کے ان خیالات کے بارے میں دانسمین کا کہنا ہے۔ ’’میں سمجھ سکتا ہوں، جب کوئی یہ کہے کہ تمہارا جسم ایک امانت ہے اور تمہیں ایک دن یہ واپس کرنا ہے۔ اگر مذہب کے لحاظ سے دیکھا جائے، تو یہ سب کچھ ٹھیک ہے۔‘‘

thailand tattoos.jpg

سارے جسم پر ٹیٹوز بنوائے جاتے ہیں

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جسم پر نقش ونگار بنے ہوں تو نماز جنازہ بھی نہیں پڑھائی جا سکتی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے اگر جسم پر ٹیٹوز بنوائے جائیں، تو وضو بھی نہیں ہوتا۔ ایک مسلمان نوجوان حلالی عثمانی کا اس بارے میں کہنا ہے۔ ’’میرے مذہب میں ٹیٹوز بنوانا بالکل منع ہے۔ میرے خاندان والوں نے پہلے دن ہی مجھے ٹیٹوز بنوانے سے منع کیا تھا اور اس کے بعد میں نے ایسا نہیں کیا۔ نہ میرے جسم پر کسی قسم کی نقش ونگاری ہے اور نہ ہی میرے بچوں کے جسم پر ہوگی۔‘‘

تاہم دانسمین اپنی رائے پر قائم ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جسم پر نقش ونگاری کروانا اسلام میں ایک گناہ ہے لیکن اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کا کہنا ہے کہ وہ جنت میں داخل کیا جائے گا یا جہنم میں اس کا فیصلہ کئی دوسری چیزوں کی بنیاد پر ہو گا۔

رپورٹ:مراد کویُنجو / امتیاز احمد

ادارت: امجد علی

DW.COM