1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جزیرہ نما کوریا پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے تحمل ضروری ہے، چین

چینی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب سے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے معاملے میں تحمل سے کام لینا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کا ٹیلی فونک رابطہ ایسے وقت پر ہوا، جب امریکی ایئر کرافٹ کیریئر جزیرہ نما کوریا کی سمندری حدود کی طرف رواں ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے چینی سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ صد شی جن پنگ نے چوبیس اپریل بروز پیر ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ بیجنگ حکومت شمالی کوریا کے جوہری میزائل پروگرام کی سختی سے مخالفت کرتی ہے اور تحمل سے کام لیتے ہوئے جزیرہ نما کوریا پر کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

شمالی کوریائی تنارعے کا پرامن حل ممکن ہے، پینس

شمالی کوریا کی جانب فوجی مصلحت برتنے کا وقت گزر گیا، امریکا

شمالی کوریا کی طرف سے ’بیلسٹک میزائل کا نیا تجربہ ناکام‘

شمالی کوریا کی طرف سے میزائل تجربوں اور ’اشتعال انگیز‘ بیانات کے باعث جزیرہ نما کوریا پر کشیدگی میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ شی نے ٹرمپ سے ایک ایسے وقت پر رابطہ کیا ہے، جب جاپانی اور امریکی افواج نے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی ہیں۔ ٹرمپ کی انتظامیہ خبردار کر چکی ہے کہ اگر شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مخالف کرتے ہوئے چھٹا جوہری تجربہ کیا تو شمالی کوریا کے خلاف عسکری کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ اس معاملے پر ٹرمپ نے جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

دوسری طرف شمالی کوریا نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کرنے کی خاطر امریکی ایئر کرافٹ کیریئر کو سمندر میں ڈبو دینے پر بھی تیار ہے۔ اس کمیونسٹ ملک کی طرف سے بروز اتوار یہ بیان ایک ایسے وقت پر جاری کیا گیا، جب دو جاپانی فوجی بحری جہاز بھی مغربی بحرالکاہل میں مشقوں کے لیے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کے نزدیک پہنچے۔ اس صورتحال میں بیجنگ حکومت نے زور دیا ہے کہ اطراف کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

چینی وزرات خارجہ کی طرف سے پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا ایکشن جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے، بیجنگ حکومت اس کی سخت مذمت کرے گی۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شی نے ٹرمپ سے گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا پر پائی جانے والی حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیےکوئی غلط قدم نہیں اٹھایا جائےگا۔ بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کی خاطر چین تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

اس کشیدگی کے دوران ہی شمالی کوریائی حکام نے ایک اور امریکی شہری کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس طرح حالیہ دنوں میں شمالی کوریا میں گرفتار کیے گئے امریکی شہریوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ جمعہ اکیس اپریل کو گرفتار ہونے والا کوریائی نژاد امریکی شہری ہے اور اِس کی عمر پچاس برس سے زائد بتائی گئی ہے۔ کم نامی امریکی شہری ایک ماہ قبل شمالی کوریا میں امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات جاننے کے لیے پہنچا تھا۔ کم کو شمالی کوریائی حکام نے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ پیونگ یانگ کے انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر واپس جانے کے لیے اپنی پرواز کا انتظار کر رہا تھا۔

DW.COM