1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جزیرہ بالی: سیاحوں کی کشتی میں دھماکا، ایک جرمن خاتون ہلاک

انڈونیشیا کے جزیرے بالی پر سیاحوں کی کشتی میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک جرمن خاتون ہلاک اور دیگر بیس غیر ملکی سیاح زخمی ہو گئے۔ زخمی سیاحوں کا تعلق پرتگال، جرمنی، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور برطانیہ سے ہے۔

Frankfurter Buchmesse 2015 Indonesien

انڈونیشی پانیوں میں محوِ سفر ایک کشتی، جس پر غیر ملکی بھی سوار ہیں (فائل فوٹو)

یہ انڈونیشی جزیرہ غیر ملکی سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ جیسے ہی سیاحوں کی ایک کشتی بالی سے قریبی جزیرے لومبوک کے لیے روانہ ہوئی، اُس میں ایک دھماکا ہو گیا۔ ’گیلی کیٹ ٹُو‘ نامی اس اسپیڈ بوٹ پر عملے کے چار ارکان سمیت چالیس سے زیادہ ارکان سوار تھے۔

مقامی پولیس چیف کے مطابق اس کشتی نے بندرگاہ سے روانہ ہونے کے بعد ابھی دو سو میٹر کا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ یہ دھماکا ہو گیا۔ مزید یہ کہ اس دھماکے کے بعد کشتی کے انجن سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ نیوز ایجنسیوں نے بالی سے اپنی متفقہ رپورٹوں میں بتایا ہے کہ تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس دھماکے کی وجہ کیا تھی تاہم پولیس نے کہا ہے کہ یہ بہرحال کسی بم کا دھماکا نہیں تھا۔ انڈونیشیا میں بحری سفر کے دوران سلامتی کے انتظامات کافی ناقص ہوتے ہیں اور اسی طرح کے کئی دھماکے پہلے بھی ہو چکے ہیں، جو کسی تیسرے فریق کی طرف سے جان بوجھ کر کی گئی کسی کارروائی کا نتیجہ نہیں تھے۔

پولیس دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے کشتی کے کپتان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس چیف کے مطابق اُنہوں نے کشتی کے معائنے اور مسافروں سے پوچھ گچھ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’یہ دھماکا کشتی کے پٹرول ٹینک میں ہوا، جس کے اوپر ہی بیٹری تھی اور ہو سکتا ہے کہ شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں فیول ٹینک متاثر ہوا ہو‘۔

سترہ ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل ملک انڈونیشیا میں ایک سے دوسری جگہ آنے جانے کے لیے کشتیوں پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے تاہم ان کشتیوں کا سلامتی کا ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں ہے اور اکثر وہاں ہلاکت خیز حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

Bildergalerie Tourismus in Indonesien Sanur

سترہ ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل ملک انڈونیشیا کے کئی جزیرے غیر ملکی سیاحوں میں بہت مقبول ہیں

گزشتہ سال بھی بالی اور لومبوک کے درمیان آمد و رفت کے لیے استعمال ہونے والی ایک کشتی پر چھوٹے چھوٹے دھماکوں کے نتیجے میں درجنوں سیاح زخمی ہو گئے تھے۔ یہ دھماکے بھی حادثاتی تھے اور غالباً پٹرول کی ٹینکی ہی میں ہوئے تھے۔ تب اس کشتی پر 129 افراد سوار تھے، جن میں سے زیادہ تر غیر ملکی سیاح تھے۔

اگرچہ ایسے زیادہ تر دھماکے حادثاتی تھے تاہم انڈونیشیا میں اُن انتہا پسندوں کی جانب سے بھی خطرات بڑھتے جا رہے ہیں، جو شدت پسند ملیشیا ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے شام یا عراق گئے تھے اور اب دیگر کو دہشت گردانہ حملوں کی ترغیب دے سکتے ہیں یا خود بھی ایسے حملے کر سکتے ہیں۔