1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن گرین پارٹی ایک ’عوامی جماعت‘ بننے کی راہ پر

حال ہی میں جرمن شہری ریاست بریمن کی علاقائی پارلیمان کے انتخابات منعقد ہوئے، جہاں عوام نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور گرین پارٹی کی مخلوط حکومت کی توثیق کر دی تاہم گرین پارٹی کے لیے یہ انتخابی نتائج تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔

default

جرمنی کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ گرین پارٹی نے پورے ملک میں اپنی جڑیں رکھنے والی عوامی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین CDU کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ ایسے میں اب سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ کیا گرین پارٹی ایک ’عوامی جماعت‘ بننے جا رہی ہے؟

حال ہی میں جب یریمن کی علاقائی پارلیمان کے انتحابی نتائج کا اعلان کیاگیا تو CDU کے 20 فیصد کے مقابلے میں گرین پارٹی کو تقریباً 22 فیصد ووٹ ملے۔ گرین پارٹی میں ان نتائج پر جشن کی سی کیفیت تھی۔

گرین پارٹی کی سربراہ کلاؤڈیا روتھ

گرین پارٹی کی سربراہ کلاؤڈیا روتھ

گرین پارٹی کی بے پناہ خوشی بجا ہے کیونکہ 31 برس پہلے اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ جماعت مستحکم عوامی جماعت سی ڈی یو کا سامنا کرتی چلی آئی ہے اور ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ گرین پارٹی عوامی حمایت کے معاملے میں سی ڈی یو کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔ بریمن میں اپنی شاندار کامیابی سے پہلے گرین پارٹی کو جرمن صوبے باڈن ورٹمبرگ میں تاریخی فتح نصیب ہوئی، جہاں جرمن تاریخ میں پہلی مرتبہ گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے ونفریڈ کریچمان ایک صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔

تو کیا گرین پارٹی ایک عوامی جماعت بننے جا رہی ہے؟ تاہم ’عوامی جماعت‘ کی اصطلاح گرین پارٹی کے عہدیداروں کو بے چین کر دیتی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ اُنہیں کوئی عوامی جماعت کہا جائے۔ گرین پارٹی کی سربراہ کلاؤڈیا روتھ کہتی ہیں:’’ہم کوئی عوامی جماعت نہیں ہیں اور نہ ہی سی ڈی یو اب کوئی عوامی جماعت رہی ہے بلکہ ہم خود کو ایک ایسی جماعت سمجھتے ہیں، جو سیاسی شعبے میں ایسے نظریات پیش کرتی ہے، جن سے سارے انسانوں کا بھلا ہو سکے۔‘‘

وفاقی جرمن پارلیمان میں گرین پارٹی کے پارلیمانی حزب کی قائد ریناٹے کیوناسٹ

وفاقی جرمن پارلیمان میں گرین پارٹی کے پارلیمانی حزب کی قائد ریناٹے کیوناسٹ

آخر عوامی جماعت کی اصطلاح میں خرابی کیا ہے۔ وفاقی جرمن پارلیمان میں گرین پارٹی کے پارلیمانی حزب کی قائد ریناٹے کیوناسٹ بتاتی ہیں:’’ہم اِس اصطلاح سے خوش نہیں کیونکہ ہم نے تو اپنی جماعت قائم ہی ان سابقہ نام نہاد عوامی جماعتوں کے خلاف کی تھی، جو چالیس چالیس فیصد ووٹ لیتی تھیں اور ہر عمر اور ہر شعبے کے لوگوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی تھیں جبکہ ان کے پاس ایسا کوئی خاکہ نہیں ہوتا تھا، جو واقعی پورے ملک کے لیے ہو۔‘‘

ماہر سماجیات وولف گانگ میرکل کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ گرین پارٹی کے پاس مسائل کے کوئی ٹھوس حل موجود ہیں لیکن اس جماعت کے ارکان مسائل کو پیش قابل اعتبار انداز میں کرتے ہیں اور مخصوص مفادات رکھنے والے گروپوں کو خوش کرنے کی بجائے اصل موضوع پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور یہی اُن کی مقبولیت کا راز ہے۔

رپورٹ: ہائنر کیزل (برلن) / امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس