جرمن گاؤں میں ایک ہزار مہاجرین اور ایک سو مقامی رہائشی | مہاجرین کا بحران | DW | 15.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن گاؤں میں ایک ہزار مہاجرین اور ایک سو مقامی رہائشی

زُمٹے ایک ویران گاؤں کا نام ہے جو جرمنی کے شمالی صوبہ لوئر سیکسنی میں واقع ہے۔ گاؤں کی آبادی تقریباﹰ ایک سو افراد پر مشتمل ہے۔ تاہم جلد ہی یہاں ایک ہزار مہاجرین کو عارضی طور پر آباد کیا جا رہا ہے۔

اگر آپ مقررہ حد رفتار سے گاڑی چلاتے ہوئے یہاں سے گزریں تو پچاس سیکنڈ میں آپ پورے گاؤں کو عبور کرتے ہوئے کھیتوں میں پہنچ جائیں گے۔ گاؤں کی مرکزی شاہراہ محض 800 میٹر طویل ہے۔ خوبصورت فارم ہاؤسز کے علاوہ گاؤں میں مشرقی جرمنی کے دورکی ایک گہرے سبز رنگ کی عمارت ہے، ایک فائر اسٹیشن اور ایک بس اسٹاپ، یہ ہے اس گاؤں تمام منظر۔ سپر مارکیٹ تو خیر دور کی بات، گاؤں میں کوئی دکان تک نہیں۔

گاؤں سے باہر ایک متروک عمارت ہے، جس کے سامنے اس وقت گھوڑے گھاس چر رہے ہیں۔ جلد ہی یہ متروک عمارت 1000 پناہ گزینوں کا عارضی گھر بننے والی ہے۔ صوبہ لوئر سیکسنی کی وزارت داخلہ کے مطابق مہاجرین کو یہاں ایک سال کے لیے رکھا جائے گا۔

’’ایک ہزار پناہ گزین؟ یہ تعداد زُمٹے کے لیے بہت زیادہ ہے۔‘‘ یہ کہنا تھا کرسٹیان فابل کا جو گاؤں کے میئر ہیں۔ ان کے خیال میں دو سے تین سو تک کی تعداد زیادہ مناسب رہتی۔ ’’قریب ترین سپر مارکیٹ چار کلو میٹر دور، نوئے ہاؤس نامی قصبے میں واقع ہے۔ ایک ہزار مہاجرین کے لیے نقل و حمل کے ذرائع بھی ناکافی ہیں۔‘‘

زُمٹے سے نوئے ہاؤس جانے کے لیے دن میں تین مرتبہ بس چلتی ہے اور ایک بس دن میں پانچ مرتبہ دریائے ایلبے کے کنارے واقع نوئےبلیکیڈے کو جاتی ہے جہاں سے کشتی کے ذریعے دریا کے دوسری جانب واقع قریب ترین شہر بلیکیڈے جایا جا سکتا ہے۔ لیکن کشتی رات کے وقت نہیں چلتی، اور نہ جب پانی کم یا زیادہ ہو، اور پھر سردیوں میں جب دریا کا پانی جم جاتا ہے تب بھی ظاہر ہے کشتی نہیں چل پاتی۔

ماضی میں جب جرمنی مشرقی اور مغربی جرمنی میں منقسم تھا، تب یہ گاؤں مشرقی جرمنی کے صوبہ میکلنبرگ فورپومرن کا حصہ تھا۔ جرمنی کے دوبارہ متحد ہونے کے بعد یہ واپس صوبہ لوئر سیکسنی کے زیر انتظام آ گیا۔

زُمٹے کے قریبی گاؤں آمٹ نوئے ہاؤس کے میئر کے مطابق: ’’اتنی تعداد میں پناہ گزین گاؤں کے لیے بوجھ بن سکتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ایک ہزار مہاجرین کے لیے بنیادی سہولیات کا انتظام کرنا مشکل کام ہے۔ زُمٹے کے میئر فابل کے مطابق: ’’ایک سو باشندوں پر مشتمل گاؤں میں ایک ہزار مہاجرین آباد کرنا نہایت غیر متناسب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پورے جرمنی میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ہو گی۔‘‘ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی مخالفت کی وجہ ’اجنبیوں سے نفرت‘ نہیں ہے۔ فابل نے مزید کہا: ’’میں خود ایک ایسی تنظیم سے وابستہ ہوں جو مہاجرین کی مدد کرتی ہے۔‘‘ البتہ ان کے مطابق گاؤں کے رہائشی اس صورتحال سے کافی پریشان ہیں۔

فابل کا کہنا تھا کہ گاؤں کے گھروں اور کھیتوں کے حفاظت کا کوئی باقاعدہ بندوبست نہیں ہے۔ مہاجرین آزادانہ نقل و حرکت کریں گے، اس لیے ان کا طبی جائزہ لینا بھی ضروری ہو گا تاکہ پناہ گزینوں اور مقامی افراد کو بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ ایسی صورتحال میں خصوصاﹰ عمر رسیدہ افراد پریشان ہوجائیں گے۔ زُمٹے اور ارد گرد کے علاقوں کی حفاظت کے حوالے سے فابل کا کہنا تھا: ’’ہمیں مزید سکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ فی الوقت نوئے ہاؤس میں صرف چار پولیس اہلکار تعینات ہیں‘‘

Flüchtlinge Deutschland

گاؤں کے گھروں اور کھیتوں کے حفاظت کا کوئی باقاعدہ بندوبست نہیں. کرسٹیان فابل

زُمٹے کے بہتر سالہ رہائشی غائن ہولڈ شلیمر نے کہا، ’’مجھے خوشی ہے کہ ان گھروں میں پھر سے انسان بسنے لگیں گے۔‘‘ اسی طرح شیلمر کی چوبیس سالہ پڑوسی انیکا وینز کا کہنا تھا: ’’اگر ہم کسی کی مدد کر سکتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے۔ لیکن ایک ساتھ ایک ہزار افراد؟ میرے خیال میں یہ بہت ہی زیادہ ہے۔ پھر ہم نہیں جانتے کہ یہ پناہ گزین کیسے لوگ ہوں گے۔‘‘ انیکا کا مزید کہنا تھا کہ ممکن ہے ابتدا میں مہاجرین پرسکون رہیں، لیکن جب وہ لوگ یہاں زیادہ عرصے کے لیے رہیں گے تو پھر وہ جو جی چاہے وہ کریں گے۔

صوبہ لوئر سیکسنی کی وزارت داخلہ کے مقامی امور کے سربراہ الیگزینڈر گوٹز کا کہنا تھا کہ وہ زُمٹے کے رہائشیوں کی تشویش کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: ’’ہمیں مقامی لوگوں کو سمجھانے کے لیے کافی وضاحت کرنا ہو گی اور ہم ان سے معاملے کو سمجھنے اور رحم دلی سے کام لینے کی گزارش کریں گے۔‘‘ تاہم ان کے مطابق صوبہ لوئر سیکسنی میں روزانہ 1500 پناہ گزین آ رہے ہیں اور انہیں آباد کرنے کے لیے تمام امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ہر ممکنہ جگہ کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں پولیس کی نفری اور گشت میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

پناہ گزینوں کے مجوزہ کیمپ کے باہر جب صحافیوں نے زُمٹے کے میئر فابل سے یہ سوال پوچھا کہ وہ مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے چانسلر انگیلا میرکل کی پالیسی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ فابل نے خزاں کی ایک سہ پہر صاف نیلے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایسا کچھ جانتی ہوں گی جس کا مجھے شاید علم نہ ہو۔‘‘