1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن کمپنی کی مشاورت سے :پاکستان میں جدید کاشتکاری

زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے راہنمائی و تربیت فراہم کرنے والی پہلی بین الاقوامی کمپنی اسٹار فارم نے منگل کے روز پاکستان میں اپنے کاروباری آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

default

پاکستان میں جرمنی کی معروف کیش اینڈ کیری کمپنی میٹرو کی شاخ

اسٹار فارم جرمنی کی معروف کمپنی میٹرو کیش اینڈ کیری کی ملکیت (سسٹر آرگنائزیشن) ہے۔ یہ کمپنی زرعی پیداوار میں اضافے ، پیداواری لاگت میں کمی، زرعی پیداوار کے معیار کی ترقی اور بین الاقوامی منڈیوں تک اس کی رسائی کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کیلئے رہنمائی اور تربیت فراہم کرتی ہے۔

منگل کے روز لاہور میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے سینکڑوں کاشتکاروں کی موجودگی میں اس جرمن کمپنی کے آپریشن کا باقاعدہ افتتاح کیا ۔ اس موقعے پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے زراعت اور لائیو سٹاک کی مصنوعات کے سائنسی معیارکی بہتری کیلئے 2 ارب روپے کی ابتدائی مالیت سے ایک اسپیشل فنڈ کے قیام کا اعلان کیا۔ اس فنڈ سے ان کاشتکاروں کی مالی مدد کی جائے گی جو اپنی زرعی مصنوعات کے معیار کی بہتری کے منصوبوں پر عمل در آمد کرنے کے خواہشمند ہوں۔

Pakistan Punjab Germany Metro Star Fram

پنجاب کے چیف منسٹر شہباز شریف نے اسٹار فارم کے آپریشن کا آغاز کیا

اس موقعے پر ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے میٹرو گروپ کے نائب صدر برائے بین الاقوامی امور مسٹر این ٹن نائف نے کہا کہ دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے زراعت کے جدید طریقے اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ، مناسب آب و ہوا اور زرخیز زمین رکھنے والا پاکستان جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پاکستانی کسان کے مائنڈ سیٹ کو بدلنے کی ضرورت ہو گی۔اسٹار فارم کے مینیجنگ ڈٓائریکٹر ہانس پیٹر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ وہ پاکستان میں کھیت سے منڈی تک کا نیا زرعی نظام متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ جس سے نہ صرف غربت دور کرنے میں مدد ملے گی بلکہ کاشتکاروں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں 6 پاکستانی سائسندان اسٹار فارم کے ذریعے چین سے زراعت کے جدید طریقوں کی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

پاکستانی کاشتکاروں نے اس جرمن کمپنی کا خیر مقدم کیا ہے تاہم ایک زرعی ماہر ڈٓاکٹر رشید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے کاشتکاروں کی تعداد کم ہے جو بڑے فارم ہاوسز کے ذریعے جدید زرعی طریقوں کو اپنا سکتے ہوں۔ ان کے بقول جدید کاشتکاری کے ثمرات کو چھوٹے کاشتکاروں تک پہنچانا اس جرمن کمپنی کیلئے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

رپورٹ: تنویر شہزاد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس