1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جرمن کمپنی سیمنز کا ایٹمی توانائی کو الوداع کہنے کا فیصلہ

جرمنی کے بہت بڑے صنعتی پیداواری اور کاروباری ادارے سیمنز نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں ایٹمی توانائی کے شعبے میں اپنی تمام تر صنعتی مصروفیات ختم کر دے گا۔

default

سیمنز کے سربراہ پیٹر لوئشر

یہ بات Siemens گروپ کے سربراہ پیٹر لوئشر نے جرمن ہفت روزہ جریدے ڈئر اشپیگل Der Spiegel کے آج اتوار کو شائع ہونے والے تازہ شمارے میں اپنے ایک انٹرویو میں بتائی۔

سیمنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیٹر لوئشر نے اس انٹرویو میں کہا کہ ان کا ادارہ آئندہ کسی بھی طرح کے نیو کلیئر پاور پلانٹس کی تیاری ، ان میں سرمایہ کاری یا ان سے متعلق انتظامی عمل میں شامل نہیں ہو گا۔ Peter Loescher نے کہا، ’ہمارے لیے اب یہ باب بند ہو گیا ہے۔‘

Siemens Kernkraftwerk im Bau

اب سیمنز ایسا کوئی ایٹمی ری ایکٹر تعمیر نہیں کرے گی

انہوں نے دنیا کے بہت بڑے بڑے صنعتی گروپوں میں شمار ہونے والی اس کمپنی کی پیداواری اور کاروباری پالیسی میں اس تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سیمنز جوہری توانائی کے شعبے میں اپنی جملہ مصروفیات اس لیے ترک کر دے گی کہ خاص طور پر توانائی کے شعبے میں دوہرے استعمال والی ٹیکنالوجی کی ترویج و ترقی پر زیادہ توجہ دی جا سکے۔

پیٹر لوئشر نے آج شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں کہا کہ سیمنز کی طرف سے آج سے مختلف کمپنیوں اور اداروں کو صرف اسٹیم ٹربائن جیسی روایتی صنعتی مصنوعات ہی مہیا کی جائیں گی۔ ان کے بقول اس کا مطلب یہ ہو گا کہ صرف ایسی مصنوعات کی تیاری اور فراہمی جو صرف جوہری توانائی کی تنصیبات میں ہی استعمال نہ ہو سکیں بلکہ جنہیں گیس اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں جیسی تنصیبات میں بھی استعمال میں لایا جا سکے۔

Konzernzentrale von Siemens in München

جنوبی جرمن شہر میونخ میں سیمنز کے ہیڈ کوارٹرز کی عمارت، فائل فوٹو

سیمنز کے اس فیصلے سے قبل وفاقی جرمن حکومت نے بھی اسی سال مارچ میں جاپان میں فوکوشیما کے ایٹمی بجلی گھر میں پیش آنے والے تباہ کن حادثے کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ جرمنی میں کام کرنے والے تمام ایٹمی بجلی گھر زیادہ سے زیادہ سن 2022 تک بند کر دیے جائیں گے۔ ایٹمی توانائی کا استعمال ترک کرنے سے متعلق اس فیصلے کے بعد اب تک پارلیمانی سطح پر باقاعدہ قوانین بھی منظور ہو چکے ہیں۔

یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک اور دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شمار ہونے والا جرمنی عالمی سطح پر صنعتی طور پر ترقی یافتہ سات بڑی ریاستوں میں سے وہ پہلی ریاست ہے، جس نے ماضی میں چرنوبل کے ایٹمی حادثے اور اس سال فوکوشیما کے سانحے سے سبق سیکھتے ہوئے ایٹمی توانائی کے استعمال کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شامل شمس

DW.COM