1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

جرمن کار ساز ادارہ اوپل، مالی بحران کی زد میں

جرمن حکام یورپ میں آٹو سیکٹر کی مالی بدحالی اور جرمنی میں اوپل کار کمپنی کی مالی مدد کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں اہم اجلاس آج ہورہا ہے۔

default

جرمن حکام، جنرل موٹرز کے یونٹ Adam Opel گے ایم بے ہا کے سربراہوں سے مذاکرات کر رہے ہیں جن میں اس کار کمپنی کو ایک ارب یورو کے قرضے دیے جانے پر غور کیا جارہا ہے۔

جرمن حکام، جنرل موٹرز کے یونٹ Adam Opel گے ایم بے ہا کے سربراہوں سے مذاکرات کر رہے ہیں جن میں اس کار کمپنی کو ایک ارب یورو کے قرضے دیے جانے پر غور کیا جارہا ہے۔

اوپل منیجرز کے ساتھ یہ مذاکرات جرمن چانسلر انگیلا مرکل، وزیر خزانہ Peer Steinbrueck، وزیر اقتصادیات Michael Glos اور ورکس کونسل کے سربراہ Klaus Franz کررہے ہیں۔


دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر Steinmeier آٹو انڈسٹری کے دیگر اہلکاروں سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں اس صنعت کو درپیش حالیہ اقتصادی بحران کے نتیجے میں پیش آنے والے مسائل کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

Opelwerk Eisenach

یورپین انویسٹمنٹ بینک نے بدحالی کے دھانے پر کھڑی آٹو انڈسٹری کے لئے قرضوں کے اجرا کی شرح میں اضافہ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

اس سے قبل جنرل موٹرز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کمپنی کو دریپش مالی مسائل کے حل کے لیے اس کے تمام اسٹیک 23 کروڑ ڈالر میں سوزوکی موٹرز کارپوریشن کو فروخت کردیے جائیں گے۔

دوسری جانب یورپین انویسٹمنٹ بینک نے بدحالی کے دھانے پر کھڑی آٹو انڈسٹری کے لئے قرضوں کے اجرا کی شرح میں اضافہ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ بینک کے ترجمان نے کہا ہے کہ آٹو انڈسٹری کے لیے 2009 میں قرضوں کی شرح میں بیس سے تیس فیصد اضافے کی تجویز یورپی وزرا خزانہ کو پیش کی جائے گی۔ یورپی انویسٹمنٹ بینک کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آٹو انڈسٹری کو دیے جانے والے اضافی قرضوں میں ماحولیاتی تحفظ کے تناظر میں بنائی جانی والی گاڑیوں کی پیداوار کے لیے بھی رقم مختص کی جائے گی۔ یہ بینک گزشتہ تین سال میں آٹوانڈسٹری کو اوسطا دو ارب یورو کے قرضے جاری کرچکا ہے جبکہ فرانس نےکہا ہے کہ آٹو انڈسٹری کو مالی تعاون فراہم ای آئی بی کی اوّلین ترجیح ہے۔

Fahrzeug der Firma Opel mit Wasserstoffantrieb

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر Steinmeier آٹو انڈسٹری کے دیگر اہلکاروں سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں اس صنعت کو درپیش حالیہ اقتصادی بحران کے نتیجے میں پیش آنے والے مسائل کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

امریکی کانگریس نے ستمبر میں یورپی آٹو انڈسٹری کے لئے 25 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا جبکہ یورپی کمیشن کے سربراہ Jose Manual Barroso نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھاکہ اگر یہ بات ثابت ہو کہ یورپی آٹو انڈسٹری کے لیے امریکی امداد غیرقانونی ہے تو یورپی یونین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے کارروائی کرنے کو تیار ہے۔


عالمی اقتصادی بحران کے نتیجے میں یورپ کی آٹو انڈسٹری بدحالی کا شکار ہے اور اکتوبر می یہاں نئی کاروں کی فروخت میں 14 اعشاریہ پانچ فیصد کمی ہوئی ہے۔