1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن کار ساز اداروں کی ملی بھگت اور کُھلی مسابقت

ایسا خیال کیا گیا ہے کہ جرمن کار صنعت کے اربابِ بست و کشاد آپس میں مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ دوسری جانب یہ ذرائع ابلاغ پر ایک دوسرے کی کھلی مخالفت اور مقابلے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل نے رپورٹ کیا ہے کہ سن 1990 سے جرمنی کے تمام کار ساز ادارے خفیہ طریقے سے ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور دوسری جانب یہ کاروباری مسابقت کے دعوے بھی کرتے رہتے ہیں۔ جریدے کے مطابق ان خفیہ ملاقاتوں کے تناظر میں کاروباری مسابقت حقیقت میں کارسازی میں اختراعات کو متعارف کرانے کی ایک چال قرار دی جا سکتی ہے۔

فوکس ویگن کی بد دیانتی ’بارہ سو انسانی اموات کا سبب‘ بنے گی

جرمن کار ساز کمپنی اسکينڈل کی بھاری قيمت چکاتے ہوئے

صرف تین ماہ میں گاڑیوں کی فروخت سے 39 ارب یورو آمدنی

 

خفیہ ملاقاتوں میں شامل ہونے والے کار ساز اداروں میں فوکس واگن، پورشے، آؤڈی، بی ایم ڈبلیو اور ڈائملر شامل ہیں۔ ڈائملر مشہور جرمن کار مرسیڈیز بینز اور اسمارٹ برانڈ کی کاریں بنانے والا ادارہ ہے۔ ڈیئر اشپیگل کے مطابق اگر اس عمل کی تفصیلات کی چھان بین کی جائے تو یہ انتہائی وسیع کاروباری سازشی رابطہ کاری یا گٹھ جوڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سن 1990 سے شروع ہونے والے خفیہ کاروباری گٹھ جوڑ میں ہی مختلف کار ٹیکنالوجی، قیمتوں کا تعین، نئی کاروں کی فراہمی، اضافی پرزوں کی سپلائی کے علاوہ ڈیزل کاروں میں کاربن اخراج کے تعین کو طے کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں فوکس واگن کار ساز ادارے کے ڈیزل گیٹ اسکینڈل پر انتہائی سوالات اٹھائے جا سکیں گے۔

ان خفیہ میٹنگوں میں غلط کاروباری سرگرمیوں کو تقویت دینے کی تفصیلات رضاکارانہ طور پر  ڈائملر اور فوکس واگن حکام کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق فوکس واگن اور ڈائملر کے دو سو ملازمین نے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے سلسلے میں ساٹھ سے زائد مرتبہ ملاقاتیں کی تھیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:03

مرسڈیز کی لگژری کشتی

دوسری جانب جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا ہے وہ ڈیزل گیٹ اسکینڈل کے بارے میں پہلے سے کوئی معلومات نہیں رکھتی تھیں۔ یہ امر اہم ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے کاروں سے دھوئیں کے اخراج کے حوالے سے غلط حقائق پیش کرنے والوں کو ’دھوکے باز‘ قرار دیا ہے۔ قانونی حلقے ان خفیہ ملاقاتوں کو جرمنی کے اعتماد میں تسلسل رکھنے والے قانون کے منافی خیال کرتے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic