1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن ڈاکٹروں کی ديہی علاقوں ميں کام کرنے سے بے رغبتی

طبی نگہداشت کے سلسلے ميں عالمی موازنے کے اعتبار سے جرمنی ايک ايسا ملک سمجھا جاتا ہے، جہاں علاج کی بڑی اچھی سہولتيں ہيں۔ ملک کے تقريباً تمام شہريوں کے پاس ہيلتھ انشورنس ہے۔

جرمنی ميں لوئر سيکسنی کے ايک گاؤں ميں لگی تختی ڈاکٹر کی طرف جانے کا راستہ دکھا رہی ہے

جرمنی ميں لوئر سيکسنی کے ايک گاؤں ميں لگی تختی ڈاکٹر کی طرف جانے کا راستہ دکھا رہی ہے

 کم ازکم اعداد و شمار کے لحاظ سے جرمنی ميں ڈاکٹر کافی تعداد ميں موجود ہيں۔ ليکن ملک کے بعض ايسے علاقے ہيں، جہاں کوئی بھی ڈاکٹر کام نہيں کرنا چاہتا، مثلاً ديہی علاقے۔ اب حکومت خصوصی سہولتيں دے کر ڈاکٹروں کو ايسی جگہوں پر کام کی ترغيب دينا چاہتی ہے۔

يہ کہنا ہی پڑے گا کہ ايک ڈاکٹر صرف مالی فائدے ہی کے ليے ڈاکٹر نہيں بنتا بلکہ دوسروں کی مدد اور ان کے دکھ درد ميں کمی کا جذبہ اس کے اس فيصلے کا ايک بڑا محرک ہوتا ہے۔

جرمنی ميں پچھلے 20 برسوں کے دوران پريکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد تقريباً 93 ہزار سے بڑھ کر ايک لاکھ 37 ہزار ہو گئی ہے۔ ليکن ديہی علاقوں ميں کام کرنے اور رہائش پر بہت کم ہی ڈاکٹر راضی ہوتے ہيں۔

ڈاکٹر سباستيان ڈانيل کی عمر 40 کے لگ بھگ ہے۔ انہوں نے جرمنی کے وفاقی صوبے برانڈنبرگ کے چھوٹے سے قصبے فيورستن برگ ميں تقريباً نو ماہ قبل ہی پريکٹس شروع کی ہے۔ ديہی علاقوں ميں پريکٹس کرنے والے ڈاکٹر بہت کم ہی ہيں۔ جرمنی کے ديہی علاقوں ميں ڈاکٹروں کے 550 مطب بند پڑے ہيں۔ ماہرين کا انديشہ ہے کہ اگلے برسوں کے دوران گاؤں ميں کام کرنے والے ہزاروں ڈاکٹر ريٹائرڈ ہو جائيں گے، جن کی جگہ لينے والا کوئی نہيں ہوگا۔ جوان جرمن ڈاکٹر گاؤں ميں کام کرنا پسند نہيں کرتے۔

ايک ديہات ميں ڈاکٹر اور مريض

ايک ديہات ميں ڈاکٹر اور مريض

اس سلسلے میں انہیں طویل سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔

 ڈاکٹرڈانيل نے کہا: ’’پيٹرول مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ اس ليے ايک ڈاکٹر دولتمند نہيں بن سکتا۔ خاص طور پر ديہی علاقوں ميں معمراورمدد کے محتاج افراد کی تعداد ميں اضافہ ہو رہا ہے۔ يہاں ريٹائرڈ افراد، خستہ مالی حالت والے لوگ ہيں، جن ميں سے کئی شراب نوشی کے مسائل سے بھی دوچار ہيں۔ دوسری طرف نوجوان ہيں، جو صبح پانچ بجے ٹرين ميں برلن کا سفر کرتے اور شام چھ بجے واپس آتے ہيں۔‘‘

جرمن حکومت ڈاکٹروں کو ديہی علاقوں ميں پريکٹس کھولنے کی ترغيب دينے کے لیے کئی رعايتيں، آسانياں اور مالی سہولتيں دينا چاہتی ہے ليکن ڈاکٹر ڈانيل نے کہا کہ ابھی يہ نہيں کہا جاسکتا کہ کيا يہ کافی ثابت ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اس قربت کو بھی پسند نہيں کرتے۔ شہر ميں آدمی گمنام سا ہوتا ہے۔ ليکن يہاں گاؤں ميں سب آپ کو جانتے ہيں۔ آپ کيا کرتے ہيں، کہاں رہتے ہيں، کس سے ملتے جلتے ہيں۔ يہاں آپ کی قدم قدم پر نگرانی ہوتی ہے۔

رپورٹ: ہائنر کيزل / شہاب احمد صديقی

ادارت: امتياز احمد    

 

DW.COM