1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر کی شاہ عبداللہ سے ملاقات

جرمن قائد حکومت انگیلا میرکل آج کل خلیج فارس کی چار عرب ریاستوں کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ ان کی پہلی منزل ابو ظہبی تھی۔ وہاں کا دورہ مکمل کر کے وہ سعودی عرب پہنچ چکی ہیں۔

default

چانسلر میرکل اور سعودی ولی عہد: فائل فوٹو

سعودی عرب میں فرمانروا شاہ عبد اللہ کے ساتھ ملاقات کے دوران جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے گفتگو کے دوران خاص طور علاقائی موضوعات، جن میں ایرانی جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ امن مذاکرات اہم تھے، کے ساتھ ساتھ دو طرفہ امور پر بھی اظہار خیال کیا۔ سعودی بادشاہ سے ملاقات میں ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبد العزیز اور دوسرے اہم حکومتی نمائندے بھی شریک تھے۔ شاہ عبداللہ نے جرمن مہمان اور ان کے وفد کے دیگر اراکین کو بحیرہ احمر کے کنارے واقع بندرگاہی شہر جدہ میں خصوصی عشائیہ دیا۔

سعودی عرب پہنچنے کے فوری بعد جرمنی کی خاتون چانسلر سیدھی جدہ سے اسی کلو میٹر کی دوری پر قائم کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی گئیں۔ اس یونیورسٹی کے بلند دیواروں اور سخت سیکیورٹی والے ماحول میں جرمن چانسلر نے ذاتی طور پر یہ معائنہ کیا کہ اس جدید ترین یونیورسٹی میں کتنے اعلیٰ معیار کی تحقیق کی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں یہ واحد یونیورسٹی ہےجہاں مخلوط تعلیم مروج ہے یعنی خواتین و حضرات پروفیسر آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں اور طلبہ و طالبات ایک ہی کلاس روم میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

VAE Golf-Staaten Angela Merkel in Abu Dhabi

انگیلا میرکل اور ابو ظہبی کے ولیعہد شہزادہ محمد

جرمن چانسلر نے خاص طور پر اس یونیورسٹی کے نینو ٹیکنالوجی کے شعبے کا دورہ کیا۔ اس شعبے کی تجربہ گاہوں میں خاص طور پرانتہائی اعلیٰ معیار کی جرمن ٹیکنالوجی سے آراستہ مشینری اور آلات نصب کئے گئے ہیں۔ انگیلا میرکل یونیورسٹی کے مجموعی ماحول سے بہت متاثر ہوئیں۔

بدھ کو جرمن چانسلر اور ان کا وفد جدہ چیمبر آف کامرس کے اراکین کے ساتھ خصوصی میٹنگ میں شرکت کرے گا۔ اس میٹنگ کے بعد جرمن چانسلر اپنی اگلی منزل قطر کے لئے روانہ ہو جائیں گی۔

سعودی عرب روانگی سے قبل ابو ظہبی میں جرمن چانسلر نے متحدہ عرب

Logo King Abdullah University of Science and Technology

کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا لوگو

امارت کی حکومت پر زور دیا کہ وہ جوہری پروگرام سے آزاد ایران کے تصور کو تقویت دے اور مشرق وسطیٰ میں امن عمل کی بھی حمایت کرے۔ ابوظہبی سے روانگی سے قبل میرکل نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ علاقائی معاملات میں متحدہ عرب امارت انتہائی اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ایرانی معاملات سے لے کر مشرق وسطیٰ کے امن مذاکرات تک امارت کے کردار کو منفی نہیں کیا جا سکتا۔ جرمنی کے وزیر مملکت برائے اقتصادیات بیرنڈ فافن باخ (Bernd Pfaffenbach) نے بھی میڈیا کو بتایا کہ ابوظہبی کے امیر کے ساتھ چانسلر میرکل کی بات چیت میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

ابو ظہبی میں جرمن وفد نے کئی معاہدوں اور مفاہمتوں پر دستخط کئے۔ ان میں ایک جرمن کمپنی سمینز سے لاکھوں ڈالر کی مالیت کے الیکٹریکل آلات کی خریداری کا سودا بھی شامل ہے۔ تجارتی معاملات کے حوالے سے ابو ظہبی کے حکام اور کاروباری برادری پر جرمن چانسلر نے واضح کیا کہ جرمنی یورپ میں امارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM